’چلے جاؤ یہاں تاشفین نہیں آئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تاشفین کے سوتیلے چچا محکمہ تعلیم میں ملازم ہیں

پنجاب کے علاقے لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن کے ایک پسماندہ علاقے میں واقع ایک مکان اس وقت پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنیسوں کے اہلکاروں کے ایسے گھیرے میں ہے جیسے یہاں انگریزوں کے دور کا خزانہ دفن ہو۔

یہ مکان امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث پاکستانی خاتون تاشفین ملک کے والد کا آبائی گھر ہے۔

مکان پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور یہاں کے رہائشی تاشفین کے والد ملک گلزار کے سوتیلے بھائی ملک جاوید ربانی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں جبکہ ان کے گھر کے باہر قانون نافد کرنے والے اور خفیہ اداروں کے اہلکار 24 گھنٹے پہرا دے رہے ہیں۔

تاشفین کے سوتیلے چچا محکمہ تعلیم میں ملازم ہیں۔

کیلیفورنیا میں مارے گئے دو مشتبہ افراد کی شناخت

کیلیفورنیا میں فائرنگ، 14 شہری اور دو مشتبہ حملہ آور ہلاک

کیلیفورنیا میں فائرنگ کے واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث تاشفین ملک کے بارے میں جاننے کے لیے جب کروڑ لعل عیسن پہنچے تو سب سے پہلے ہمارا استقبال وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے کیا جو اسلحہ لے کر مجھ سمیت دیگر صحافیوں سے پوچھنے لگے کہ وہ یہاں کیا لینے آئے ہیں۔

جب مجھ سمیت اسلام آباد سے آنے والے دیگر صحافیوں نے جان کی اماں پاؤں تو عرض کروں کی مصداق اپنے آنے کی وجہ بتائی تو اُنھوں نے کہا کہ پہلے متعلقہ پولیس سٹیشن سے اس کی اجازت لینا ہوگی اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

جب صحافیوں نے ایسے کرنے سے انکار کیا تو بات تلخ کلامی تک پہنچ گئی اور لیہ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کو اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABC NEWS I AP
Image caption ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ تاشفین ملک اور اُن کے شوہر رضوان فاروق نے حملہ کرنے سے قبل ’بھرپور منصوبہ بندی‘ کی تھی

وہاں میڈیا کی موجودگی کا کچھ ویسا ہی منظر دکھائی دیا جیسا مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے موقع پر ایبٹ آباد میں دیکھنے کو ملا تھا۔

تاشفین ملک کے والد کے آبائی گھر کے 500 میٹر کی رینج میں بڑی تعداد میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی ایک خاصی تعداد موجود تھی۔

جب بھی کوئی صحافی اہل محلہ سے تاشفین ملک اور اُن کے والد ملک گلزار کے بارے میں پوچھنے لگتا تو ان اداروں کے اہلکار وہاں پرپہنچ جاتے جس کی وجہ سے اہل محلہ تاشفین ملک اور ان کے والد کے بارے میں کچھ بتانے سے گریزاں تھے اور اگر کسی نے اس بارے میں کوئی بات کرنا چاہی تو اس نے صرف اسی بات پر اکتفا کیا کہ وہ ملک گلزار کو30 سال سے نہیں ملے جبکہ تاشفین ملک کو اُنھوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

میڈیا کے لوگوں کو دیکھتےہی لوگ کہنا شروع کردیتے تھے کہ ’چلے جاؤ یہاں پر تاشفین کبھی نہیں آئی۔‘

کروڑ لعل عیسن میں اب بھی ایک انجانی خوف کی فضا موجود ہے اور اس علاقے میں بھی ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے جیسا سنہ 2008 میں ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کی گرفتاری کے بعد اس کے گاؤں کا ماحول بنا دیا گیا۔

یہی صورت حال ملک گلزار کے دوسرے گھر تونسہ شریف میں بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیلیفورنیا میں ہونے والے حملے جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے کی تحقیقات دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کی جا رہی ہیں

ملتان میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں فارمیسی کی طالبہ رہنے والی تاشفین ملک کا تعلیمی ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کے اہلکار یونیورسٹی میں بھی موجود تھے تاہم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ابھی تک تاشفین ملک کا ریکارڈ اُن کے حوالے نہیں کیا۔

سنہ 2008 سے سنہ 2013 تک بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں تاشفین ملک کے کچھ کلاس فیلوز کا کہنا ہے کہ ان پانچ سالوں کے دوران اُنھوں نے تاشفین کا چہرہ نہیں دیکھا کیونکہ وہ نقاب کرکے یونیورسٹی میں آتی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ افراد کچھ پریشان تھے کیونکہ اُنھیں خطرہ تھا کہ اگر اُنھوں نے کچھ کہا تو خفیہ اداروں کے اہلکار اُنھیں تنگ کریں گے۔

تاشفین کے دو ہم جماعتوں ندیم اور جبار (فرضی نام) نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ بہت زیادہ مذہبی رجحان رکھتی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کلاس روم میں شرارتیں کرنا بھی اس کا مشغلہ تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ پڑھائی کے معاملے میں وہ بہت سنجیدہ تھی اور کبھی بھی وہ کوئی بھی لیکچر مس نہیں کرتی تھی۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ متعدد طالبعلم تاشفین ملک کے نوٹس لے کر امتحانوں کی تیاری کرتے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب کیلیفورنیا کا واقعہ پیش آیا اور میڈیا پر تاشفین کے بارے میں کچھ معلومات کے ساتھ ساتھ اُس کی تصویر بھی شائع ہوئی تو پھر اُنھوں نے اپنی خواتین کلاس فیلوز سے پوچھا تو اُنھوں نے اس کی تصدیق کی کہ مذکورہ خاتون وہی تاشفین ہے جو ان کی کلاس فیلو تھی۔

ان افراد کا کہنا تھا کہ تصویر شائع ہونے پر اُنھوں نے تاشفین کا چہرہ دیکھا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ متعدد خواتین کلاس فیلوز ابھی تک سکتے میں ہیں اور جب بھی اُن سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں تو وہ اس معاملے پر بات کرنے سے انکاری ہیں۔

مذکورہ یونیورسٹی کی انتظامیہ بھی ابھی تک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور انتظامیہ کا کوئی بھی اہلکار اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں