’فوجی عدالت سے ملنے والی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد معطل‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سپریم کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو اپنے اکثریتی فیصلے میں جائز قرار دیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دو افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو حیدر علی اور قاری ظاہر نامی مجرمان کو 16 دسمبر تک سزائے موت نہ دینے کا حکم دیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کو معطل کر دیا

’اپیل کا حق دلوائیں‘، فوجی عدالت سے سزا یافتہ ملزم کی درخواست

سوات کے علاقے دیولئی سے تعلق رکھنے والے ملزم حیدر علی کو سکیورٹی فورسز نے 2009 میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔

حیدر علی اور قاری ظاہر اُن چھ مجرموں میں شامل ہیں جنہیں فوجی عدالتوں نے کچھ عرصہ قبل سوات میں سکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

ان دونوں کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو نہ تو وکیل کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور نہ ہی ان کے سزائے موت کے مقدمے کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا اس صورتحال میں عدالت یا تو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل دس اے کو ختم کر دے یا پھر ان سزاؤں کو کالعدم قرار دیا جائے۔

اس پر عدالت نے اپنے فیصلے میں حیدر علی اور قاری ظاہر کی سزاؤں پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے چیف جسٹس سے فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے معاملے پر لارجر بینچ بنانے کی درخواست کی ہے۔

اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے بھی رواں برس اگست میں حیدر علی کی سزا پر عمل درآمد پر حکمِ امتناع جاری کیا تھا تاہم اس حکم کے اخراج کے بعد ان کے لواحقین نے عدالتِ عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

ہائی کورٹ میں ان کے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ جب حیدر علی کو حراست میں لیا گیا اس وقت وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے اور ان کی عمر 14سال تھی۔

خیال رہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ کوئی بھی مجرم خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو اپنے اکثریتی فیصلے میں جائز قرار دیا تھا جس کے بعد خصوصی عدالتوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملوں سمیت دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے متعدد افراد کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر سنہ 2014 میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد کیا گیا تھا اور اس ضمن میں پارلیمنٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کی تھی۔

اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ پنجاب میں تین تین جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک عدالت ہے۔

اسی بارے میں