’ پی آئی اے کو آئندہ سال فروخت کر دیا جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے کو مسلسل کئی برسوں سے اربوں روپے خسارے کا سامنا ہے

پاکستان میں نجکاری کے وفاقی وزیر کے مطابق قومی ایئر لائن کو آئندہ برس جولائی تک فروخت کر دیا جائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے نجکاری کے وزیر محمد زبیر نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ اس کو کئی برسوں سے ہونے والی شدید مالی خسارے، بدانتظامی کی وجہ سے اس کی ساکھ کو پہنچنے والی نقصان کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

پی آئی اے کو کارپوریشن لمیٹڈ بنانے کا آرڈیننس جاری

نجکاری کمیشن کی منظوری:پی آئی اے کو بیچ دیں

دوسری جانب پی آئی اے کے ملازمین حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے پی آئی اے کی تنظیم نو سے متعلق صدارتی آرڈیننس جاری کرنے پر تنقید کی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قائد حزب اختلاف نے پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو ایسے فیصلوں کے لیے حزب اختلاف اور پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے۔

نجکاری کے وزیر محمد زبیر کے مطابق ’پی آئی اے کو مسلسل بھاری مالی خسارے کی وجہ سے اس کی نجکاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جب حکومت اس کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی گی تو نجکاری کمیشن اس کو بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش کرے گا۔‘ انھوں نے مزید بتایا ہے کہ حکومت نجکاری کے طریقہ کار کے بارے میں سوچ رہی ہے لیکن اس میں آپشن ہے کہ پی آئی اے کے 26 فیصد حصے کو انتظامی کنٹرول کے ساتھ بیچ دیا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے خریدار کے لیے وہ مشرقِ وسطیٰ، چین اور یورپ میں روڈ شو کریں گے۔ پی آئی اے کا گذشتہ جون سے اب تک خسارہ 227 ارب روپے ہے جبکہ حکومت کو سالانہ 12 سے 15 ارب روپے پی آئی اے کو ادا کرنا پڑتےہیں تاکہ ایئر لائن چلتی رہے اور ملازمین کو تنخواہیں مل سکیں۔

Image caption پی آئی اے کی نجکاری کی تجویز پہلے بھی متعدد بار دی جا چکی ہے

دوسری جانب سے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کے 15 ہزار ملازمین نے حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

ملازمین کے ایک سینیئر ترجمان شمیم اکمل کے مطابق’حکومتی منصوبے کے خلاف یہ ہمارا پرامن احتجاج ہے۔‘ وزیر برائے نجکاری محمد زبیر نے کہا ہے کہ’ نجکاری کے علاوہ اگر کسی کے پاس کوئی بہتر تجویز ہے کہ تو ہم اس کو سننے کو تیار ہیں۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے جس میں انھیں پی آئی اے کو لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کے بعد اس کے قوانین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں پی آئی اے کے ملازمین کی ملازمت کو تحفظ حاصل ہے اور اسے تیل اور گیس کے ادارے او جی ڈی سی کی طرح خودمختار ادارے کی طرح چلانا ہے۔

اتوار کو حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کو ایک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے اور اب پی آئی اے کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت ایک کمپنی کے طور پر کام کرے گی۔

اسی بارے میں