تعلقات کی بحالی میں سٹیل کی سرمایہ کاری

تصویر کے کاپی رائٹ MEA INDIA

افغانستان اور بھارت کے درمیان سڑک کے راستے کھولنے کے مسئلے کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے خصوصی طور پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں اٹھایا۔

بین الاقوامی تعلقات میں سب سے زیادہ اہمیت اور ترجیح معاشی معاملات کو ہی دی جاتی ہے۔

’سب سے اہم افغانستان کی بھارتی بازاروں تک سڑک سے رسائی‘

بھارت کی ایرانی بندرگاہ کی تعمیر میں دلچسپی

افغانستان کو بھارتی ہتھیاروں سے زیادہ پاکستانی تعاون درکار

سشما سوراج کا اچانک ہارٹ آف ایشیا میں شرکت کرنا اور پاکستان جس نے اس سے قبل استنبول میں ہونے والی کانفرنس میں بھارت کی شرکت کی مخالفت کی تھی اس کا بھارت کی میزبانی کرنے پر رضامند ہو جانا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جندل گروپ بھارت میں سٹیل کے شعبے کے بڑے سرمایہ کار ہیں اور ان کا بھارت کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی بڑا اثر رسوخ ہے

پاکستان کے زمینی راستے سے گزر کر افغانستان اور اس سے بھی آگے وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچنا بھارت کا ایک دیرینہ خواب رہا ہے۔ لیکن گذشتہ دس برس میں بھارت کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے معاشی مفادات نے اس خواہش کو اور بھی شدید کر دیا ہے۔

سشما سوراج کے اس بیان کو اگر بھارت کے گذشتہ دس برس میں افغانستان میں بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ قطعاً حیران کن بات نہیں۔

جغرافیائی مجبوریوں کے باوجود افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم سنہ 2001 میں آٹھ کروڑ ڈالر سے بڑھ کر سنہ 2010 میں 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

بھارت اور افغانستان کے تجارتی تعلقات میں سٹیل کا شعبہ ایسا ہے جس میں بھارت کے سرکاری اور نجی شعبے مشترکہ طور پر سب سے زیادہ چھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں چند سال قبل سٹیل اتھارٹی آف انڈیا کی سربراہی میں قائم بھارتی کمپنیوں کے افغان آئرن اینڈ سٹیل نامی کنسورشیم نے جس میں جندل گروپ کے سب سے زیادہ شیئر ہیں، افغانستان کے صوبے بامیان میں خام لوہا نکالنے کی کامیاب بولی لگائی تھی۔

بھارتی کمپنیوں نے لوہے کی کانوں سے خام لوہا نکل کر 60 کروڑ ٹن سٹیل بنانے کی صلاحت رکھنے والی مل اور 800 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا کارخانہ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ماہرین کے اندازے کے مطابق چھ کروڑ ٹن لوہے کی قیمت عالمی منڈی میں تین اعشاریہ تین ارب ڈالر بنتی ہے۔ بامیان میں حاجیگک کی لوہے کی کانوں میں ایک اندازے کے مطابق دو ارب ٹن لوہے کے ذخائر موجود ہیں۔

یاد رہے کہ جندل گروپ بھارت میں سٹیل کے شعبے کے بڑے سرمایہ کار ہیں اور ان کا بھارت کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی بڑا اثر و رسوخ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کنسورشیم نے افغانستان کے صوبے بامیان میں خام لوہا نکالنے کی کامیاب بولی لگائی تھی

اس جندل گروپ کے نوین جندل کا ذکر بھارتی صحافی برکھا دت نے بھی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب میں کیا ہے۔ ان کےبقول مودی کی حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کے دورۂ بھارت کے دوران نوین جندل نے نواز شریف کے صاحبزادے کی دعوت بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ یہ وہی نوین جندل ہیں جن کے توسعت سے کھٹمنڈو میں سارک سربراہ کے موقع پر مودی اور نواز شریف کی ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کی دونوں حکومتوں کی جانب سے تردید کی جا چکی ہے۔

افغانستان تک رسائی کے لیے بھارت نے ایران کی بندگاہ چاہ بہار میں بھی سرمایہ کاری کی اور ایرانی ساحلوں سے کابل تک شاہراہ میں بھی سرمایہ لگایا۔ اس کے علاوہ بھارت اسی راستے پر ریل کی پٹری بچھانے پر بھی غور کر رہا تھا لیکن ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے باعث اس منصوبے پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ایران اور افغانستان کے درمیان طویل سفر کے علاوہ یہ راستہ خراب موسم میں بند بھی ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے ذریعے اگر بھارت کو افغانستان تک زمینی رسائی حاصل ہو جاتی ہے تو بھارت کے لیے لامحدود معاشی امکانات کا دروازہ کھل سکتا ہے۔

اسی بارے میں