پشاور: سکول پر حملے کی پہلی برسی سے پہلے سرچ آپریشز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور میں آرمی پبلک سکول کے مضافات سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں جہاں چند روز کے اندر ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والے افراد میں افغان پناہ گزین بھی شامل ہیں۔

چارسدہ میں منڈہ کے مقام پر افغان پناہ گزینوں کے کیمپ میں سکیورٹی اہلکاروں نے سرچ آپریشن کیا ہے جہاں 70 مہاجرین کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

چارسدہ کی ضلع پولیس افسر شفیع اللہ خان نے بتایا کہ افغان مہاجرین کے یہاں رہائش کے دستاویز کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے جن کے پاس یہاں رہنے کے دستاویز نہیں ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

ادھر پشاور کے جنوب میں واقع ضلع کوہاٹ میں جنگل خیل کے علاقے میں پولیس نے سرچ آپریشن کیا ہے جہاں سے 35 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ کوہاٹ میں گذشتہ روز بدھ کو بھی سرچ آپریشن کیا گیا تھا جہاں سے 27 کو افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

ادھر پشاور کی بہاری کالونی میں گذشتہ روز بدھ کو پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران 40 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ بہاری کالونی آرمی پبلک سکول کے قریب واقع ہے ۔ آرمی پبلک سکول میں 16 دسمبر کو سکول پر حملے کی پہلی برسی کے حوالے سے بڑی تقریب منعقد ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption سولہ دسمبر کو پشاور سکول حملے کی پہلی برسی کے موقع پر تقریبات منعقد ہوں گی

اسی طرح ضلع مردان میں چند روز پہلے سرچ آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن سے تحقیقات کے بعد بے گناہ افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔ صوبے کے دیگر اضلع جیسے کوہاٹ، نوشہرہ، اور بنوں میں بھی پولیس نے سرچ آپریشن کیے ہیں۔

ان آپریشنز کے دوران پشاور بنوں اور مانسہرہ سے شدت پسندی میں ملوث افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔ انسداد دہشت گردی کے محکمے کی کارروائیوں میں پشاور، بنوں اور مانسہرہ سے اہم ملزمان کو گرفتار کیا گیا جنھیں تفتیش کے لیے نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان نافذ کیا گیا جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائیاں کیں اور ان کارروائیوں میں ایک سال کے دوران دس ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق انھوں نے اس عرصے کے دوران پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں شدت پسندوں کے اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔

ان کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں ان افغان مہاجرین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے پاس یہاں رہنے کے لیے سفری دستاویزات نہیں تھیں جبکہ ایسے افغان مہاجرین بھی تھے جنھوں نے حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے خود واپس اپنے وطن جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں