پشاور میں ڈی ایس پی قاتلانہ حملے میں زخمی

Image caption جہاں زادہ خان کو دو گولیاں لگی ہیں۔ ایک سینے پر بائیں جانب اور دوسری پیٹ میں لگی ہے: پولیس

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے ڈپٹی سپرٹنڈنٹ پولیس کو زخمی کر دیا ہے جبکہ ایک دوسرے واقعے میں ایم پی اے ہاسٹل کے سامنے فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے کے تھانے میں موجود اہلکاروں کے مطابق ڈی ایس پی جہاں زادہ خان آج صبح فقیر آباد کے علاقے میں اپنے گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ پہلے سے تاک میں بیٹھے ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جہاں زادہ خان کو دو گولیاں لگی ہیں۔ ایک سینے پر بائیں جانب اور دوسری پیٹ میں لگی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جہاں زادہ خان نے جوابی فائرنگ کی ہے لیکن ملزمان اس سے محفوظ رہے اور موقع سے فرار ہو گئے۔

ڈی ایس پی کو زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی گئی اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ جہاں زادہ خان ان دنوں ضلع چارسدہ میں سی ٹی ڈی ( کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ) میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پر تعینات تھے۔

دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اپنی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ترجمان نے ایک بیان میں کراچی میں ایک ریٹائرڈ فوجی اور کوئٹہ میں ایک چوکی پر حملے کی ذمہ داری بھی اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

اس کے علاوہ آج سہ پہر کے وقت نا معلوم افراد نے ایم پی اے ہاسٹل کے سامنے ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو ئے ہیں۔

ادھر آج سپیشل پولیس یونٹ نے ایک کارروائی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں مطلوب اہم ملزم کو حس گڑھی کے علاقے سے گرفتار کیا ہے ۔ ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ملزم انسداد پولیو مہم کے رضاکار کے علاوہ ایک فوجی اور امام مسجد پر حملے میں ملوث تھا۔

اسی بارے میں