’فاٹا اصلاحات تین سے چار ماہ میں تیار ہو جائیں گی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تین چار ماہ میں اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے دے گی۔

یہ بات فاٹا کمیٹی کے رکن اور ریاستوں اور فرنٹیئر ریجن کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کی۔

فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ یا الگ صوبہ؟

’حقوق نہ دیے تو کوئی بھی قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کریں گے‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شدت پسندی سے بری طرح متاثرہ قبائلی علاقوں کے سٹیٹس سے متعلق کوئی فیصلہ ہو جائے گا تو ان کا جواب تھا کہ ’ہماری حکومت کی باقی ماندہ مدت میں تو دو ڈھائی سال باقی ہیں لیکن کمیٹی کے اندر میری ذاتی کوشش ہو گی کہ تین چار ماہ میں ہم اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دیں۔‘

قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے اس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جس میں خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز، سابق کور کمانڈر کوئٹہ اور مشیر برائے سلامتی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر خان جنجوعہ، گورنر خیبر پختونخوا مہتاب خان عباسی اور رکن قومی اسمبلی زاہد حامد شامل ہیں۔

اس سال نومبر کے اوائل میں قیام کے بعد سے اس کمیٹی کے اب تک دو اجلاس ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی آپریشن کے باعث فاٹا سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے ہی ملک میں بےگھر ہونا پڑا

بعض حلقوں کی جانب سے اس کمیٹی میں قبائلی علاقوں کی نمائندگی نہ ہونے کے اعتراض کے بارے میں قادر بلوچ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر بنیادی طور پر فیصلہ غیرجانبدار لوگوں نے کرنا ہے۔ ’یہ شکایت جائز نہیں ہے۔ فاٹا کے اراکینِ پارلیمان سے مشاورت کی گئی تھی اور اب فیصلہ کرنا ہے کہ مشاورت کے لیے ہم ہر ایجنسی میں جائیں گے، وہاں کے ملکوں اور مشران سے بات کریں گے ان کی رائے لیں گے۔

’اس کے بعد اگر ہم کسی حتمی فیصلے کے لیے لویہ (بڑا) جرگہ منعقد کریں گے۔ اس جرگے کے فیصلے کے بعد یہ تجاویز وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی جائیں گی۔‘

قادر بلوچ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، وزیر اعظم اور فوج اس بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ ’میں آپ کو بتاؤں کہ اس بارے میں وزیر اعظم اور ان کی کابینہ بہت سنجیدہ ہیں۔ فوج جو وہاں قانون نافذ کرنے کے لیے موجود ہے اور ضرب عضب میں مصروف ہے وہ بھی اس بارے میں سنجیدہ ہے اور ان کی رائے بھی اہم ہے۔ پھر قبائلی عوام کی بہت زیادہ شکایتیں ہیں۔ تو ایک جانب سے مطالبہ ہے اور دوسری جانب سے مصمم ارادہ ہے۔‘

ماضی میں بھی کئی حکومتوں نے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی بات کی اور سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں تو مقامی قبائلی کونسلوں کے انتخابات بھی کسی حد تک منعقد ہوئے لیکن بات آگے نہیں بڑھی تھی۔

Image caption فاٹا کے اہم قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اب بھی فوجی آپریشن جاری ہے

ماضی میں وہاں جرائم پیشہ مافیاز اور نوکرشاہی اصلاحات کی بھرپور مخالفت کرتی رہی ہے۔ نوکرشاہی کے خیال میں آج بھی قبائلیوں سے نمٹنے کا بہترین حل فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن ہے۔ لیکن قادر بلوچ اس سے متفق نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پرمٹ مافیا یا نوکرشاہی اس جیسی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے۔ ’ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی اور یہ (اصلاحات) ان کے لیے بھی بہتر ہیں۔‘

دریافت کیا کہ حکومت کی ترجیح کیا ہوگی؟ وفاقی وزیر کا جواب تھا کہ یہ سب کچھ قبائلیوں کی رائے کو سامنے رکھ کر طے کیا جائے گا۔

’ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ ہم مقامی حکومتوں کے انتخابات کروائیں۔ دوسرا گلگت بلتستان کے ماڈل میں چند ترامیم کے ساتھ کوئی نظام وضع کیا جائے۔ اسے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقوم آبادی کے اعتبار سے طے ہوں گی اور ان کی آبادی بھی کم ہے۔ تو انھیں صوبائی اسمبلی میں بھی کم نمائندگی ملے گی۔‘

قادر بلوچ کے مطابق علاقے کے مستقبل کے بارے میں کسی بڑے فیصلے سے قبل ایک عبوری وقت درکار ہوگا تاکہ اس علاقوں کو خیبر پختونخوا کے برابر لایا جا سکے۔ ’اس دوران تمام بےگھر افراد کو بسایا جائے، ان کے ذہنوں سے شدت پسندوں اور طالبان کا خوف ختم کیا جائے اور تیسرا یہ کہ وہ امن عامہ کی ذمہ داری دوبارہ خود سنبھال لیں۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انتظامی تبدیلیوں کے علاوہ ایف سی آر جیسے سیاہ قرار دیے جانے والے قانون کی تبدیلی کے لیے آئینی اصلاحات کی بھی ضرورت ہوگی جو کی جائے گی۔ ’پہلی کاری ضرب تو اسی قانون پر لگنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں