فاٹا اصلاحات خواب یا حقیقت؟

پاکستان میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جب بھی کسی کام میں تاخیر مقصود ہو تو اس کے لیے کمیٹی بنا دی جاتی ہے۔

فاٹا میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ کمیٹی قبائلیوں کے دیرینہ خواب کو حقیقت کا روپ دے سکی گی؟

فاٹا اصلاحات تین سے چار ماہ میں تیار ہو جائیں گی: عبدالقادر بلوچ

فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ یا الگ صوبہ؟

’حقوق نہ دیے تو کوئی بھی قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کریں گے‘

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی کو بنے ہوئے تقریباً ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن ابھی تک اس کے دو اجلاس ہی منعقد ہو پائے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت اس عمل میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

فاٹا اصلاحات کمیٹی کے بارے میں قبائل کی طرف سے عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کمیٹی میں فاٹا سے کسی نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کمیٹی کی حیثیت پر تنقید کی جا رہی ہے۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی تنظیم فاٹا لائرز ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز مہمند کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی حکومت کی طرف سے فاٹا کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برامد ہوسکتے ہیں۔

Image caption شدت پسندی اور فوجی کارروائیوں کے ستائے ہوئے قبائلی عوام کی جانب سے گذشتہ ماہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک احتجاجی جلسے کا انعقاد بھی کیا گیا

’ہماری کمیٹی کی اجلاسوں پر نظر ہے اگر ہمیں کہیں بھی یہ معلوم ہوا کہ کمیٹی فاٹا میں موجودہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس کی بھر پور مزاحمت کی جائےگی۔‘

انھوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ 21ویں صدی میں بھی قبائل بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور وہاں اب بھی انگریزوں کے دور کا ’ظالمانہ‘ قانون ایف سی آر قانون نافذ ہے جس کے تحت فاٹا کے عوام سے انصاف کا حق چھین لیا گیا ہے۔

اعجاز مہمند کا کہنا تھا کہ ’ہماری التجا ہے کہ خدارا قبائلیوں کو پاکستانی تسلیم کرو، وہ اس ملک کے محب وطن شہری ہیں۔‘

شدت پسندی اور فوجی کارروائیوں کے ستائے ہوئے قبائلی عوام کی جانب سے گذشتہ ماہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک احتجاجی جلسے کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ فاٹا کی تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی مشران، سول سوسائٹی کی تنظیموں، وکلاء اور طلباء نے مشترکہ طورپر یک زبان ہوکر فاٹا میں اصلاحات کے حق میں اپنی آواز بلند کی ہے۔

قبائلی علاقوں میں کونسا نظام ہونا چاہیے، اسے خیبر پختونخوا کا حصہ بنانا چاہیے یا اسے الگ صوبے کا درجہ ملنا چاہیے یا وہاں منتخب کونسل تشکیل دی جائے اس بارے میں رائے منقسم ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بیشتر سیاسی جماعتیں اور وکلاء تنظیمیں فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کے حق میں ہیں تاہم کچھ قبائلی مشران اور بعض نوجوان تنظیموں کے کارکن الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فاٹا سے منتخب اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومتی اور مقتدر حلقوں کے نمائندوں سے اس ضمن میں ملاقاتیں ہوئی ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ تمام فریقین اصلاحات کے عمل کے حامی ہیں۔

ان کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ فاٹا کے لیے نمائندہ کونسل تشکیل دی جائے گی جس کے اپنے ممبران ہوں گے اور اس کی حیثیت ایک اسمبلی جیسی ہوگی۔

ماضی میں ملک کے مقتدر حلقوں پر یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ وہ فاٹا میں تبدیلی کے حامی نہیں۔ اس کی چند وجوہات ماضی کا افغان جہاد اور دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ اور ان علاقوں کا افغان سرحد سے متصل ہونا بتائی جاتی ہیں۔

فاٹا میں اصلاحات کےلیے پہلے بھی کئی مرتبہ حکومتی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں لیکن اس ضمن میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی ہے تاہم اس بات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس مرتبہ جس طریقے سے قبائل نے مشترکہ طورپر اپنے حق کے لیے آواز بلند کی ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز اصلاحاتی عمل پر متفق نظر آتے ہیں اس سے بظاہر کسی نہ کسی حد تک تبدیلی کا امکان دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں