آواران میں حملہ، حکمران جماعت کے رہنما کا بھائی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حملے میں ڈاکٹر شفیع بزنجو ہلاک جبکہ لیویز فورس کا دفعدار زخمی ہو گیا (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے پولیٹیکل سیکریٹری اور حکمران جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما خیر جان بلوچ کے بھائی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

ڈاکٹر شفیع بزنجو پر حملے کا واقعہ منگل کے روز آواران کی تحصیل جھاؤ میں پیش آیا۔

بلوچستان میں فائرنگ، نیشنل پارٹی کے دو رہنما ہلاک

ضلع آواران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

آواران میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شفیع بزنجو اپنے ایک رشتہ دار اور لیویز فورس کے دفعدار ملور خان کے ہمراہ ایک گاڑی میں جا رہے تھے کہ انھیں نشانہ بنایا گیا۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے جھاؤ میں ان کی گاڑی پر حملہ کیا۔

اس حملے میں ڈاکٹر شفیع بزنجو ہلاک جبکہ لیویز فورس کا دفعدار زخمی ہو گیا۔

اس حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

وزیر اعلیٰ ٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’ایک انتہائی بہیمانہ اور شرمناک عمل قرار دیا ہے۔‘

ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’پولیو مہم کے دوران خدمات سرانجام دینے والے بےگناہ معصوم شخص کے قتل کا کوئی جواز نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے عناصر پڑھے لکھے اور باشعور افراد کو قتل کر کے اپنے گھناؤنے چہروں کو عوام کے سامنے خود بے نقاب کر رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ڈاکٹر شفیع بزنجو سرکاری ملازم تھے اور جھاؤ میں میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔

اسی بارے میں