’نیشنل ایکشن پلان میں پولیس کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کو سال گزر جانے کے باوجود سول سکیورٹی اداروں کو جدید اور مضبوط بنانے کے ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسی منصوبے کے تحت نیکٹا نامی انسدادِ دہشت گردی کا اعلیٰ ترین ادارہ بھی وجود میں آنا تھا مگر عملی طور پر اس کے پاس صرف اسلام آباد میں درجن بھر اہلکاروں اور ایک دفتر سے زیادہ کچھ نہیں۔

نیشنل پولیس بیورو کے سابق سربراہ شعیب سڈل نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’سب سے زیادہ پولیس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر پولیس اپنا کام صحیح کرے تو فوج اور رینجرز کی مدد کی بہت کم ضرورت پڑے گی۔‘

’نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے‘

’سیاسی چیلنجز نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد میں رکاوٹ‘

انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور سپریم کورٹ بھی اسے دیکھ چکی ہے۔ اس کے بعد حکومت کو اس ایک سال کے دوران کم سے کم پولیس کی تعداد اور صلاحیت کے اعتبار سے موجود خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔

’چلیں اُس طرف ابتدا ہی ہو جاتی۔ ہم کہتے ہیں کہ جی یہ ہمارا پانچ سال کا منصوبہ ہے اور پہلے سال میں ہم نے یہ کرنا تھا وہ ہم نے کر لیا ہے مگر ایسا نہیں ہوا۔‘

حکومت پاکستان نے چند ہفتے پہلے نیکٹا کو عملے کی بھرتی کے لیے ایک ارب سے زیادہ کی رقم جاری کی ہے مگر سرکاری ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ اور نیکٹا کے حکام مستقبل میں بھی اس ادارے کا کردار محض حکومتی تھنک ٹینک یا تحقیقی مرکز سے زیادہ نہیں دیکھتے۔

پاکستان کے بعض حصوں میں غیر ملکی امداد سے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے پر محدود پیمانے پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں خیبر پختونخوا میں برطانیہ کی مالی مدد سے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Image caption اعتبار نامی اس منصوبے کے تحت صوبے میں مثالی تھانے یا ماڈل پولیس سٹیشن بنائے جا رہے ہیں۔ سات میں سے اب تک پانچ ماڈل پولیس سٹیشن بنائے جا چکے ہیں جبکہ دو تکمیل کے مراحل میں ہیں

’اعتبار‘ نامی اس منصوبے کے تحت صوبے میں مثالی تھانے یا ماڈل پولیس سٹیشن بنائے جا رہے ہیں۔ سات میں سے اب تک پانچ ماڈل پولیس سٹیشن بنائے جا چکے ہیں جبکہ دو تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

ان مثالی تھانوں میں عملے اور سائلین کے لیے پینے کا پانی، بیت الخلا، کینٹین، بیٹھنے کی معیاری سہولتیں، تفتیش کے لیے جدید آلات اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پولیس کو انسانی حقوق اور عورتوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنے کی آگاہی بھی دی جا رہی ہے۔

نوشہرہ کے تھانہ نوشہرہ کلاں میں ایس ایچ او نصیر اختر سے ملاقات ہوئی تو وہ نئے تفتیشی کمرے میں بیٹھے ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے تھے جس پر دیوار کے پیچھے ساتھ والے کمرے میں ایک 18 سالہ افغان لڑکی کے قتل کے ملزم سے پوچھ گچھ جاری تھی۔ وہ ٹی وی سکرین پر ملزم سے ہونے والی تفتیش براہ راست دیکھ رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اب تفتیش کی کیمروں کے ذریعے ریکارڈنگ ہوتی ہے اور ملزم کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے تھانوں میں تشدد کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ تھانے کے ہر حصے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جن کے ذریعے ہر ایک کی حرکات و سکنات ریکارڈ ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے ہم تفتیش کے دوران ملزم کا بیان کاغذوں پر لکھتے تھے جس سے بعد وہ مکر بھی سکتا تھا مگر اب ہم اس کی ریکارڈنگ بار بار چلا کر دیکھ سکتے ہیں اور اس سے ہمیں معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے تھانے کو جلد ہی موبائل فورینسک کی سہولت بھی ملنے والی ہے جس سے مقدمات کو نمٹانا بہت آسان ہو جائے گا۔

’پہلے ہم فورینسک رپورٹ کے لیے نمونے پشاور یا لاہور بھیجا کرتے تھے جس کی رپورٹ آنے میں مہینوں لگ جاتے تھے مگر اب یہ کام دنوں میں ہو جائے گا۔‘

مگر یہ سب کچھ ملک کے چند تھانوں تک محدود ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں پولیس آج بھی بنیادی سہولتوں، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت سے محروم ہے۔

Image caption پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں برطانیہ کی مالی مدد سے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

نیشنل پولیس بیوریو کے مطابق پاکستان میں کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پولیس کی کل تعداد سوا چار لاکھ ہے جس میں سپاہی سے آئی جی رینک تک کے افسران بھی شامل ہیں۔

تناسب کے لحاظ سے اوسطاً ہر 450 شہریوں کے لیے ایک پولیس اہلکار ہے۔

نیشنل بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ایک لاکھ 18 ہزار، سندھ میں ایک لاکھ 14 ہزار، اسلام آباد میں دس سے 11 ہزار، خیبر پختونخوا میں 66 ہزار، بلوچستان میں 35 سے 36 ہزار،گلگت بلتستان چھ ہزار اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹھ ہزار پولیس نفری موجود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے معیار کے مطابق ہر 350 شہریوں کے لیے ایک پولیس اہلکار ہونا چاہیے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں پولیس اور شہریوں کا تناسب اتنا کم بھی نہیں۔

پاکستان کی اندرونی سکیورٹی میں فوج کا فُٹ پرنٹ ہمیشہ سے حاوی رہا ہے مگر کئی تجزیہ کاروں کے بقول سویلین سکیورٹی اداروں کی کمزوری اور پسماندگی کی بڑی وجہ سیاسی عزم کی کمی ہے جس کا مظاہرہ منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں