’پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت 53 ہزار افراد گرفتار کیے گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایک برس میں صوبے میں پنجاب ساونڈ سسٹم ریگولیشن آرڈیننس کے تحت6,101 ایک مقدمات درج ہوئے جبکہ 6,676 ملزمان کو گرفتار کیا گیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ ایک برس میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے پانچ قوانین میں ترامیم کی گئیں، اور انسدادِ دہشت گردی فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس دوران 48,600 مقدمات قائم کیے گئے جبکہ 53 ہزار افراد کو مختلف جرائم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ تاہم انسانی حقوق کمیشن کو دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر صوبے میں کی گئی کچھ کاروائیوں پر تحفظات بھی ہیں۔

’نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے‘

’سیاسی چیلنجز نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد میں رکاوٹ‘

16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد جن 20 نکات پر اتفاق ہوا تھا ان میں نفرت انگیز مواد کی نشر و اشاعت کے خلاف کریک ڈاؤن، دہشت گردی میں ملوث افراد اور تنظیموں کو ملنے والی مالی امداد منقطع کرنے، مدرسوں میں اصلاحات، دہشت گردوں کے مواصلاتی نظام کا خاتمہ، دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے، پنجاب سے شدت پسندی کے خاتمے، سوشل میڈیا پر شدت پسند تنظیموں کے پراپیگنڈے کو روکنے، فرقہ واریت میں ملوث عناصر کا قلع قمع، اقلیتوں کے تحفظ اور فرقہ وارانہ نفرت کا خاتمہ جیسے اقدامات شامل تھے۔

پنجاب میں ان نکات پر عمل درآمد کے لیے کرایہ داری ایکٹ، وال چاکنگ ایکٹ، اسلحہ ایکٹ، پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور پبلک آرڈر ایکٹ میں ترامیم کر کے انھیں مزید سخت بنایا گیا۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ ان میں سے کئی قوانین سے عوام کی آزادیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہماری نظر میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پنجاب میں گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور کراچی کی طرح یہاں بھی ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ہماری نظر میں یہاں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں شفافیت نہیں ہے۔‘

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایک برس میں صوبے میں پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن آرڈیننس کے تحت6,101 مقدمات درج ہوئے جبکہ 6,676 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

نفرت انگیز مواد کی نشر و اشاعت اور ابلاغ کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد صوبے بھر میں کارروائی کرتے ہوئے 551 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 5,884 افراد کوگرفتار کیا گیا۔

پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 121 مقدمات درج ہوئے اور 160 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

کرایہ داری کے قانون کی خلاف ورزی پر 7,636 مقدمات درج کروائے گئے جبکہ تقریباً 11,500 لوگ گرفتار ہوئے۔ جن میں مالک مکان پراپرٹی ڈیلر اور کرائے دار شامل ہیں۔

وال چاکنگ ترمیمی آرڈیننس کے تحت 1,284 جبکہ اسلحے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر 34,000 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔

16 دسمبر کے بعد پنجاب میں 1,182 اہلکاروں میں مشتمل انسدادِ دہشت گردی فورس اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپمارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد صوبے میں فرقہ وارانہ دہشت گردی پر قابو پانا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیشنل پلان آف ایکشن کے تحت دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے کے لیے پولیس کو اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے بارے میں تربیت دی گئی۔ اس حوالے سے 73 مقدمات درج ہوئے جبکہ 93 افراد کو گرفتار کیا گیا

نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے کے لیے پولیس کو اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے بارے میں تربیت دی گئی۔ اس حوالے سے 73 مقدمات درج ہوئے جبکہ 93 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

صوبے میں گذشتہ ایک برس کے دوران آٹھ ایسی تنظیموں کی کڑی نگرانی کی گئی جو نام بدل کر کام کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز اور خوف پھیلانے والی تحاریر و تقاریر کی روک تھام کے لیے 125 ویب لنکس بلاک کیے گئے۔

پنجاب میں رہنے والے 54,600 کے تریب افغان مہاجرین کی بائیومیڑک تصدیق جبکہ 13,782 مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی۔

پنجاب میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا پانے والے 17 مجرموں کو پھانسی دی گئی جبکہ ایسے سات مجرموں کے مقدمات اس وقت سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی کے خاتمے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔ زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ اس سے معاشرے میں جرائم میں کمی کا ہدف پورا نہیں ہو سکا۔

’یہ کہا جا رہا تھا کہ سزائے موت سے پابندی ہٹائے جانے سے مستقبل میں دہشت گردی کرنے والوں کے لیے ایک رکاوٹ کھڑی ہو جائے گی، اور وہ آئندہ ایسے جرائم سے گریز کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ابھی چند روز پہلے پاڑہ چنار میں دھماکہ ہوا۔ ان واقعات میں کمی ضرور آئی ہے مگر پنجاب میں توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سی انتہاپسند تنظیموں کا گڑھ پنجاب ہے۔‘

پاکستان میں اب تک 300 سے زائد افراد کو تختۂ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ ان میں سے دس فیصد مجرم ایسے تھے جنھیں دہشت گردی کے مقدمات میں موت کی سزا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں