’اپنے ہاتھوں سے خولہ کو موت کے سپرد کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے کے بعد سکول آڈیٹوریم کے مناظر

16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول میں ہونے والے حملے کی بدترین یادوں کو مٹانے کے لیے انتظامیہ نے سکول میں بڑے پیمانے پر مرمت کا کام کرایا ہے۔

حملے میں 141 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی تھی۔ لیکن سانحے کی پہلی برسی نے مرجھائے ہوئے زخموں کی یاد ایک بار پھر تازہ کر دی ہے۔

الطاف حسین آرمی پبلک سکول میں انگریزی کے اُستاد ہیں اور اپنے آپ کو مضبوط ارادوں والا شخص کہتے ہیں۔ لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران کئی ایسی باتیں ہیں جو اُن کا پیچھا کر رہی ہیں۔

وہ حملے میں زخمی ہوگئے تھے، اور اِس سانحے میں اُن کی چھ سالہ صاحبزادی خولہ بی بی ہلاک ہوگئی تھی، جس کا اُنھیں بہت زیادہ دکھ ہے۔

حسین قتل عام کے واقعے سے صرف چار ماہ قبل اگست 2014 میں اے پی ایس میں اُستاد کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے۔ وہ اپنے آبائی علاقے بالاکوٹ سے اپنے خاندان کے ہمراہ پشاور منتقل ہوئے۔ اُن کے دو بچوں کو اے پی ایس کی ساتویں جماعت میں داخلہ ملا جبکہ چھ سالہ خولہ کو 15 دسمبر 2014 کو پہلی جماعت میں داخلہ ملا۔

اگلے روز ہی وہ اے پی ایس میں ہونے والے قتل عام میں زندگی کی بازی ہارنے والی کمسن ترین طالبہ بن گئیں۔

حسین نے بتایا کہ ’اُس روز ہم کالج کی عمارت کی پہلی منزل پر قائم کمپیوٹر لیب میں موجود تھے، جب ہم نے فائرنگ کی آواز سنی اُس وقت ہم خولہ کی تصویر لے کر اُس کا داخلہ فارم کو بھر رہے تھے۔‘

Image caption حسین قتل عام کے واقعے سے صرف چار ماہ قبل اگست 2014 میں اے پی ایس میں اُستاد کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے

وہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے راہداری میں گئے اور پھر یہ سوچ کر واپس آگئے کہ یہ آرمی کی مشق ہو گی۔ لیکن اُن کے فوراً بعد سکول کی اُستاد میڈم شہناز سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی اوپر آئیں اور بتایا کہ وہ بچوں کو قتل کر رہے ہیں۔

یہ ایک طویل کہانی ہے، لیکن حسین نے کہا کہ وہ خولہ کو مس شہناز کے سپرد کرکے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے باہر چلے گئے۔ اس دوران اُن کے جسم میں دو گولیاں لگیں اور وہ بیہوش ہو گئے۔

اُس لمحے کے بعد وہ خولہ کبھی نہ دیکھ پائے اور نہ ہی اُن کے جنازے میں شریک ہو سکے۔ وہ دو روز کے لیے وینٹیلیٹر یعنی مصنوعی تنفس کے مشین پر تھے، اُنھوں نے دو ہفتے سے زائد عرصہ ہسپتال میں گزارا۔

اُنھیں بعد میں بتایا گیا کہ خولہ کو سر میں گولی لگی تھی اور مِس شہناز بھی ماری گئی تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے ہاتھوں سے خولہ کو موت کے سپرد کیا۔ میں اُس کو کسی محفوظ جگہ لے جا سکتا تھا۔ اُس وقت تک میں جان چکا تھا کہ مسلح حملہ آور کس جانب سے آ رہے ہیں اور کون سی جگہ جانے کے لیے محفوظ ہے، لیکن اِس کے بجائے میں نے قاتلوں کو مصروف رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اوپر نہ آ سکیں۔‘

حسین کی طرح دسمبر کے آغاز پر دیگر والدین اور بچوں کے زخم پھر سے ہرے ہو گئے ہیں۔

پشاور کے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ کے سینئیر ماہر نفسیات ڈاکٹر میاں مختار الحق عظیمی کا کہنا تھا کہ ’برسی ایک دردناک موقع ہے اور اِس میں جذباتی بریک ڈاؤن بھی ہو سکتا ہے۔‘

Image caption خولہ بی بی زندگی کی بازی ہارنے والی کمسن ترین طالبہ ہیں

اے پی ایس پر حملے کے بعد سے لے آر ایچ میں 500 سے زائد والدین اور بچوں کا نفسیاتی علاج کیا گیا ہے، جو بے چینی، ڈپریشن یا پوسٹ ٹرامیٹک دباؤ کا شکار تھے۔

لیکن ڈاکٹر عظیمی کا کہنا ہے کہ اے پی ایس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہیں۔

کاظم حسین اُن میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک ڈائیٹیشن اور تاجر ہیں، 16 دسمبر کو اُن کے بیٹے کو بھی دو گولیاں لگیں لیکن وہ بچ گئے۔

وہ اُس اذیت ناک دن کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے 30 سے 35 بستروں میں اپنے بیٹے کو تلاش کرتے وقت کا خوفناک تجربہ اب بھی محسوس کر سکتے ہیں۔

’اُن بستروں پر سب لڑکے ایک ہی عمر اور ایک ہی قد کاٹھ کے تھے، سب کے سب خون میں لت پت تھے۔ وہ خاموش تھے، نہ رو رہے تھے اور نہ شکایت کر رہے تھے۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، صرف خوف اور صدمہ تھا۔‘

اُنھوں نے ماضی میں جھانکتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک بچے کو دیکھ تھے اور پھر اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اُن کا بیٹا نہیں ہے۔ وہ اگلے بستر کی جانب چلے گئے، وہ ایک بار پھر واپس آئے اور ایک بار پھر اُن بچے کی جانب دیکھ کر یہ یقین کیا کہ کہیں وہ اُن کا بیٹا تو نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میری خواہش کے اُس صورت حال سے کسی کو نہ گزرنا پڑے۔‘

حسین والدین کی تنظیم کے رکن ہیں، جو بچ جانے والے طالبعلموں کی تعلیمی امداد، اور ذہنی و جسمانی علاج کے لیے کوشاں ہے۔

Image caption حسین والدین کی تنظیم کے رکن ہیں، جو بچ جانے والے طالبعلموں کی تعلیمی امداد، اور ذہنی و جسمانی علاج کے لیے کوشاں ہے

یہ لوگ اُن بچوں کے مسائل کو اُجاگر کر رہے ہیں، جو رویوں کی تبدیلی، غصے کے دورے، چیزیں توڑنے، تعلیم پر توجہ ہٹانے اور امتحانات میں خراب کارکردگی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔

انھوں نے سیکورٹی میں غلطی کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

حسین کا کہنا ہے کہ ’اِن سب چیزوں نے پورے سال مجھے پریشان رکھا، میں اپنے کام پر توجہ نہیں دے سکا۔‘

دوسرے والدین کی طرح اِنھوں نے بھی اپنے بچے کا داخلہ اِس اُمید پر دوسرے سکول میں کرا دیا کہ وہ اپنے توجہ اور اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لیکن کچھ دوسرے ایسے بھی ہیں، جنھوں نے ایسے ہی نتائج حاصل کرنے کے لیے اِس کے بالکل برعکس کام کیا ہے۔

افشاں تحسین 42 سال کی ہیں اُنھوں اے پی ایس میں اُستاد کی حیثیت سے صرف اِس لیے شمولیت اختیار کی کہ وہ اپنے 15 سالہ اکلوتے صاحبزادے غلام سمیر اعوان کی مدد کر سکیں۔ سمیر واپس اُسی سکول میں گئے ہیں جہاں اُنھوں نے قاتلوں کی گولیوں کا سامنا کیا تھا۔

سمیر کو پیٹ میں گولی لگی تھی، اُنھوں نے سکول کی عمارت میں ایک پُرہجوم کلاس میں چھپ کر جان بچائی تھی، اور وہاں سے اپنی والدہ کو مدد کے لیے فون کال کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اُن کے والد کاروبار کی وجہ سے لاہور میں تھے۔

افشاں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر سے اے پی ایس تک درمیان کے کئی کلومیٹر طویل راستے پر بھاگ رہی تھی، سڑک پر ٹریفک جام تھا۔ اُن کے سر پر دوپٹہ تک نہیں تھا اور اُن کا ایک جوتا بھی ٹوٹ گیا تھا۔

اے پی ایس کے نزدیک سکیورٹی حصار کے باہر ایک شخص سڑک پر بیٹھا، غم میں اپنا سر پیٹ رہا تھا۔ وہ بھی وہیں بیٹھ کر رونے لگیں۔

Image caption سکول کی عمارت مکمل طور پر مرمت کی گئی ہے

بعد میں ایک محلہ دار نے اُنھیں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پہنچایا، جہاں سمیر کو لے جایا گیا تھا۔ یہاں بھی وہی منظر تھا جس سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں حسین گزرے تھے۔

’ہر بچہ سونو (سمیر) کی طرح نظر آ رہا تھا۔ میں اُس وقت وہاں پڑے سٹریچروں کی تعداد نہیں بتا سکتی لیکن میں اسے تلاش کرنے کی امید میں سب کے پیچھے جا رہی تھی۔ ایک لمحے کو مجھے لگا کہ میں نے اپنے بچے کو ڈھونڈ لیا، لیکن جب اُنھوں نے اُس بچے کے جوتے اُتارے تو وہ سیاہ رنگ کے موزے پہنا ہوا تھا لیکن میں نے سونو کو صبح سفید رنگ کے موزے دیے تھے۔‘

’بعد میں جب سمیر ہسپتال سے گھر آیا تو اُسے دورے پڑتے، شدید ذہنی دباؤ رہتا اور اسے نیند نہیں آتی تھی۔ وہ گولیوں کی آواز کے خوف میں جم کر رہ گیا ہے، اور اس کی تعلیم میں دلچسپی بھی ختم ہوگئی ہے۔‘

افشاں کا کہنا ہے کہ میرے سارے رشتہ دار سمیر کو دوبارہ سے اے پی ایس میں بھیجنے کے مخالف تھے۔ ’لیکن میرے شوہر اور مجھے لگا کہ سمیر کو دوبارہ اے پی ایس میں بھیجنا ہی واحد حل ہے، جس سے وہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔‘

اور ایسا کرنے کے لیے آسان طریقہ تھا کہ وہ استاد کی حیثیت سے سکول شامل ہو جائیں، یہی کام وہ پچھلے دس سال سے ایک دوسرے سکول میں کر رہی تھیں۔

’اب سمیر کو تحفظ کا خیال ہوتا ہے کیونکہ میں اُس کے ساتھ وہاں موجود ہوتی ہوں۔ اور میں مطمئن رہتی ہوں کہ وہ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ ہم سب خوش ہیں۔‘

اسی بارے میں