’فوج بتائے کہ طلبہ کے تحفظ میں غفلت کہاں ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پشاور میں گذشتہ برس آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے متاثرہ خاندانوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ریاست اس سانحے کی تحقیقات کرنے سے کترا رہی ہے۔

فوجی سکول پر حملے کو بدھ کو ایک سال پورا ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا کی حکومت اس واقعے کی پہلی برسی سرکاری سطح پر منا رہی ہے۔

سانحۂ پشاور کی برسی سرکاری سطح پر منانے کا اعلان

’حملہ آوروں کے مددگاروں کو سزا ہونا ضروری ہے‘

16 دسمبر سنہ 2014 کو طالبان کے اس سکول پر حملے میں 141 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبہ کی تھی اور جہاں آپریشن کے دوران تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا وہیں اس معاملے میں حملہ آوروں کی مدد کے جرم میں چار افراد کو پھانسی بھی ہو چکی ہے۔

تاہم حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جن کی مبینہ غفلت کا نتیجہ اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی صورت میں نکلا۔

اسی سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہدا تنظیم کے صدر عابد رضا بنگش نے کہا: ’ہمیں بتایا جائے کہ طالبان ایک فوجی سکول کے اندر داخل ہونے میں کامیاب کیسے ہوئے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سکیورٹی کی ذمہ دار صوبائی اور وفاقی حکومت ہے لیکن سکول کی اندرونی سکیورٹی کی ذمہ داری تو فوج پر آتی ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے اور ان حکام کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے جن کی غفلت کی وجہ سے ہمارے بچوں کا خون بہا، وہ چاہے وردی میں ہوں یا بغیر وردی کے۔‘

انھوں نے کہا: ’جب تک ان کا احتساب نہیں ہوتا، ہمارے بچے محفوظ نہیں رہ سکتے۔‘

حملے میں عابد رضا بنگش نے اپنے بڑے بیٹے کو کھویا جو میٹرک کے طالب علم تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پچھلے ایک سال میں صدرِ پاکستان، صوبائی حکومت اور پاکستانی فوج سب سے درخواست کی ہے کہ تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے مگر کوئی ہماری بات ہی نہیں سن رہا۔‘

عابد رضا بنگش نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انھیں بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقے سے دھمکی اور پیغام دیا گیا ہے کہ وہ فوج کے خلاف بولنا بند کر دیں۔

’فوجی اہلکاروں نے متعدد بار مجھے تنظیم بند کرنے کو کہا ہے۔ شاید وہ ناراض ہیں کہ ہم سوال کیوں پوچھتے ہیں مگر یہ ہمارا حق ہے۔‘

ان کے بقول فوج کے برعکس صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

عابد رضا بنگش کا کہنا ہے: ’میرے بیٹا مجھ سے چھین لیا گیا ہے تو اب اگر میں بھی چلا جاتا ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر میں اپنے بیٹے کو ہلاک کرنے والے سانحے سے متعلق سوال اٹھاتا رہوں گا۔‘

شہدا تنظیم میں افشاں آصف بھی شامل ہیں جن کا 15 سالہ بیٹا حملے میں ہلاک ہوا ۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’میرے بیٹے کی حفاظت پاکستانی فوج کی ذمہ داری تھی تو وہ مجھے بتائے کہ غفلت کہاں ہوئی؟‘

انھوں نے کہا کہ ’یہی سوال جب میں نے اور ہماری تنظیم نے حملے کے فورا بعد ٹی وی چینلوں پر کرنا شروع کیا تو اس کا صلہ یہ ملا کہ رواں برس ستمبر میں سکول کے شہدا کے لیے ہونے والی تقریب میں ہم 16 متاثرہ خاندانوں کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’سکول کے گیٹ پر بڑی تعداد میں تعینات فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ آپ لوگوں کو تقریب میں شریک ہونے کی اجازت نہیں ہے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے ساتھ مزید 40 خاندانوں نے بھی تقریب کا بائیکاٹ کیا۔‘

شہدا تنظیم میں شامل والدین کے الزامات کے بارے میں جب فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا گیا تو اس جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اسی بارے میں