باڑہ بازار چھ سال بعد مقامی انتظامیہ کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بازار کھولنے کے اعلان پر مقامی تاجروں نے خوشی کا اظہار کیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں امن کے قیام کے بعد فوج نے چھ سال کے عرصہ کے بعد علاقے کو دوبارہ مقامی پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے۔

توقع ہے کہ اس سال کے آخری تک باڑہ کے مرکزی بازار کو عام لوگوں کےلیے کھول دیا جائے گا۔

باڑہ روڈ کھول دیا لیکن بازار تاحال بند

’بازار میں آپ کی سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے‘

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان عاصم باجوہ کی طرف سے منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا تھا کہ باڑہ میں بے گھر متاثرین اور تاجروں کی واپسی کے بعد علاقے کو دوبارہ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ادھر باڑہ میں مقامی تاجروں کی تنظیم انجمن تاجران کے جنرل سیکریٹری سید ایاز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باڑہ کے مرکزی بازار کھولنے کے لیے تمام تیاریاں مرحلہ وار مکمل کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بازار کے تمام تاجروں کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے اور دکانوں کی مرمت کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق توقع ہے کہ اس مہینے کے آخر تک بازار عام لوگوں کےلیے کھول دیا جائے گا جس کا افتتاح کرنے کےلیے گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان کی آمد متوقع ہے۔

سید ایاز نے مزید بتایا کہ بازار کھولنے کے اعلان پر مقامی تاجروں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

باڑہ بازار تقریباً 11 ہزاروں دکانوں پر مشتمل ایک بڑا بازار ہے جو ایجنسی کا سب سے بڑا تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یکم ستمبر 2009 میں فوج کی طرف سے عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائیوں شروع کرنے کے بعد یہ بازار مکمل طورپر بند کر دیا گیا تھا۔

باڑہ بازار پشاور شہر سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں اس سے پہلے ملک بھر سے خریدار آیا کرتے تھے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ باڑہ تحصیل کے تقریباً تمام علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں لیکن خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ کے علاقے میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ روز فوج نے خیبر ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک فضائی حملے میں آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

Image caption یکم ستمبر 2009 میں فوج کی طرف سے عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائیوں شروع کرنے کے بعد یہ بازار مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا

اسی بارے میں