نیشنل ایکشن پلان میں تعلیم کو شامل کرنا چاہیے تھا: ملالہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف شروع کیے گئے قومی ایکشن پلان میں ’تعلیم کو شامل کرنا چاہیے تھا۔‘

سخت سکیورٹی میں سانحۂ پشاور کی پہلی برسی

سوالات بہت، جوابات کم

سانحۂ پشاور کی پہلی برسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی طالبہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مرکزی نکتہ دہشت گردوں کو مارنا ہے لیکن اس کے 20 نکاتی ایجنڈے میں ’صبر، تحمل اور امن کا پیغام دینے والی تعلیم کا سب سے اہم پہلو شامل نہیں کیا گیا۔‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آج پاکستان کے سکولوں میں بچے محفوظ ہیں تو ملالہ نے کہا: ’پاکستان میں کبھی آپ کو ایسا لگتا ہے کہ بڑے سیاست دانوں سمیت ہر شخص خطرے میں ہے، کیونکہ ہم نے جتنا دیکھا ہے اُس سے ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے، لیکن پچھلے ایک سال سے حالات ٹھیک ہو رہے ہیں، تو تھوڑی سی امید ابھی باقی ہے۔ پھر بھی تعلیم کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے تمام وفاقی سکولوں اور کالجوں میں بدھ کو یوم شہدائے آرمی پبلک سکول منایا جا رہا ہے

پشاور کے آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد شدت پسندوں کی موت کی سزا پر عمل درآمد کرنے کے بارے میں حکومت اور عسکری قیادت کی حکمت عملی پر ملالہ نے کہا: ’آپ لوگوں کو تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ایک شخص لوگوں کو انتہا پسندی کی جانب لے کر جا رہا ہے تو آپ اسے اچھی تعلیم، امن اور اسلام کے اصل معنی سکھا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں متبادل طریقے بھی موجود ہیں، انھیں ہلاک کرنا ہی واحد حل نہیں ہے۔‘

ملالہ یوسف زئی نے مزید کہا کہ پاکستان میں’ضرب عضب‘ کے ساتھ ساتھ ’ضرب قلم‘ کی بھی بہت ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر ’ہم دہشت گردوں کو مار تو سکتے ہیں لیکن ان کی سوچ نہیں بدل سکتے۔‘

حال ہی میں ہونے والے پیرس حملے، کیلیفورنیا میں فائرنگ کے واقعات، دنیا میں اسلامو فوبیا کے حملوں میں اضافہ اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے بیان پر ملالہ نے کہا کہ اس سے ’مزید دہشت گرد پیدا ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا: ’چاہے وہ مغربی میڈیا ہو یا مشرقی، وہ دنیا میں مقیم ایک ارب 60 کروڑ مسلمان آبادی پر الزام نہیں لگا سکتے۔ سب پر الزام لگنے سے دہشت گردی نہیں حتم کی جا سکتی، بلکہ یہ صرف لوگوں میں مزید غصہ اور زیادہ دہشت گرد ہی پیدا کرے گی۔‘

اسی بارے میں