رینجرز کے اختیارات میں مشروط توسیع کی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ حکومت کسی کو 90 روز تحویل میں رکھنے کی درخواست منظور یا مسترد کر سکتی ہے

سندھ اسمبلی نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی قرارداد شرائط کے ساتھ اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد کے بعد سندھ حکومت نے عملی طور پر آپریشن کا اسٹیئرنگ ویل اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے ایوان میں یہ قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کسی بھی مشکوک شخص کے بارے میں متعلقہ ثبوت اور مکمل تفصیلات سندھ حکومت کو فراہم کرے گی، جس کے بعد حکومت کسی کو 90 روز تحویل میں رکھنے کی درخواست منظور یا مسترد کر سکتی ہے۔

قرارداد کے مطابق سندھ رینجرز صوبائی حکومت کے کسی بھی دفتر یا کسی ادارے پر چیف سیکریٹری سے پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھاپہ نہیں مار سکے گی۔

سندھ حکومت نے اس قرارداد میں یہ شرط بھی عائد کر دی ہے کہ سندھ رینجرز پولیس کے علاوہ کسی اور ادارے کی معاونت نہیں کر سکے گی۔

رینجرز ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کارروائیاں کر سکے گی۔ قرارداد کے مطابق ان شرائط کے ساتھ سندھ حکومت پولیس اور رینجرز کو یہ اختیارات دے سکے گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل نے رینجرز کو مشروط اختیارات دینے پر احتجاج اور واک آؤٹ کیا۔

یاد رہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے رینجرز کو پولیس کے اختیارات بھی دیے گئے تھے جن میں ہر تین ماہ کے بعد اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔

رواں ماہ یہ اختیارات پانچ دسمبر کو ختم ہوگئے جس کے بعد صوبائی حکومت نے ان کو سندھ اسمبلی کی منظوری کے ساتھ مشروط کر دیا تھا۔

اسی بارے میں