بلوچستان میں انتخابی مہم چلانے پر چار سیاسی کارکن اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے دو سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چار کارکنان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

اغوا ہونے والے کارکنوں کا تعلق صوبے کی حکمران جماعت نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی سے ہے۔

بلوچستان میں حکمراں جماعت کے رہنما ہلاک

کیچ میں انتظامیہ کے ذرائع نے چار افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں دو مختلف علاقوں سے اغوا کیا گیا۔

ان افراد کے اغوا کے حوالے سے کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مقامی میڈیا کو ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔

بیان میں ان کارکنوں کی تعداد پانچ بتائی گئی ہے جن میں سے تین کا تعلق نیشنل پارٹی بتایا گیاہے ۔

تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس بیان کے مطابق تنظیم کی جانب سے خبردار کیے جانے کے باوجود یہ افراد انتخابی مہم چلا رہے تھے جس پر انھیں بیان کے مطابق ’گرفتار کیا گیا ہے۔‘

ضلع کیچ میں بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 50 پر 30 دسمبر کو ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔

اس نشست پر 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اکبر آسکانی کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ ان کی نااہلی کے باعث اس نشست پر اب دوبارہ انتخاب ہو رہا ہے۔

اسی تناظر میں بی ایل ایف نے دھمکی دی تھی کہ اس علاقے میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے۔

ماضی میں بھی ضلع کیچ میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور رواں برس اکتوبر میں یہاں نیشنل پارٹی کے ایک مقامی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

سخت گیر موقف کی حامل بلوچ قوم پرست جماعتیں اور عسکریت پسند تنظیمیں بلوچستان میں انتخابات کے خلاف ہیں۔

ان جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ اور عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث بلوچستان کے بلوچ آبادی والے متعدد علاقوں میں 2013ء کے عام انتخابات متاثر ہوئے تھے۔

اسی بارے میں