’دینی مدارس حکومت کے معاون ہیں، ہدف نہیں‘

Image caption چوہدری نثار علی خان کے بقول کوئی دینی مدرسہ شدت پسندی کی تربیت دینے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قائم دینی مدارس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے معاون ہیں، ہدف نہیں ہیں۔

جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی وزارت کی ڈھائی سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک دہشت گردی میں ملوث کسی بھی مدرسے کے بارے میں ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

’مدارس کو رقم دیتی تو حکومت کو حق تھا‘

اسلام آباد: مدرسے پر رینجرز کا چھاپہ، تین افراد گرفتار

خیبر پختونخوا:تین ہزار سے زیادہ مدرسے، 770 رجسٹرڈ ہی نہیں

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی دینی مدرسے سے پڑھ کر دہشت گردی کرتا ہے تو پھر جدید تعلیم دینے والے اداروں سے پڑھنے والے بھی شدت پسندی میں ملوث رہے ہیں، تو پھر کیا حکومت ان تعلیمی اداروں کے خلاف بھی کارروائی کرے؟

اُنھوں نے کہا کہ جو دینی مدرسہ شدت پسندی کی تربیت دینے میں ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مدارس اور وہاں پر زیر تعلیم طالب علموں کے خلاف کارروائی کے بارے میں کہا جارہا ہے تاہم اُن افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جا رہا جنھوں نے ان مدارس کو وفاقی دارالحکومت کے گرین ایریا میں پنپنے کی اجازت دی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان مدارس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم زیر تعلیم رہے ہیں۔

Image caption اسلام آباد میں واقع مدارس میں متعدد مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ان مدارس میں 25 ہزار طالبعلم زیر تعلیم ہیں

چوہدری نثار علی خان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو دوبارہ اسی جگہ واپس لانا تھا تو پھر اس فوجی آپریشن کی کیا ضرورت تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں واقع مدارس میں متعدد مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ان مدارس میں 25 ہزار طالبعلم زیر تعلیم ہیں لیکن اُنھیں بندوق کے زور پر شہر سے نہیں نکالا جا سکتا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان بھر کے سرکردہ علمائے کرام سے مذاکرات کے بعد مدارس کی رجٹسریشن اوراصلاحات کے بارے میں اتفاق ہوگیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان مدارس میں جدید نصاب بھی پڑھایا جائے گا جس میں انگلش حساب اور جغرافیہ کی بھی تعلیم دی جائے گی۔

اسی بارے میں