’بریت کی درخواست رد، دہشت گردی کا مقدمہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اب ڈاکٹر عاصم کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

پیر کو جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی عدالت میں مقدمے کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے تفصیلی رپورٹ پیش کر کے اپنا موقف دہرایا کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردی کے الزامات میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے، لہٰذا انھیں بری کیا جائے۔

’دہشت گردی کے الزامات ختم‘، ڈاکٹر عاصم نیب کے حوالے

سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم 90 دن کے لیے رینجرز کی حراست میں

رینجرز نے ڈاکٹر عاصم حسین پر دہشت گردوں اور ملزمان کو پناہ دینے اور رعایتی نرخوں پر علاج معالجے کے الزامات عائد کیے تھے۔ رینجرز کے قانونی افسر کا موقف تھا کہ مدعی سے مشاورت نہیں کی گئی اور گواہوں کا بیان بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔

جسٹس نعمت للہ پھلپوٹو نے سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے بریت کی درخواست مسترد کر دی اور ڈاکٹر عاصم کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

ڈاکٹر عاصم کے خلاف اب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت کے موقعے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ڈاکٹر عاصم حسین کو قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا تھا، جہاں ان پر زمین پر قبضوں اور منی لانڈرنگ سمیت دیگر الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، نیب ان کا ریمانڈ بھی لے چکی ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر عاصم حسین کے خاندان نے بریت مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ سندھ حکومت بھی ڈاکٹر عاصم کی حمایت میں کھل کر سامنے آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے سے انھیں مایوسی ہوئی ہے

مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے سے انھیں مایوسی ہوئی ہے۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ ’ڈاکٹر صاحب نے جو تین سو سے زائد صفحات کے ثبوت دیے ہیں ان کا جائزہ لینا بھی ضروری تھا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جانے چاہیے تاکہ احتساب پر انتقام کا نام نہ آئے تبھی اس کو قبول کیا جائے گا اور اس تبصرہ نہیں ہو گا۔‘

مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ رینجرز نے جو میڈیکل بل پیش کیے ہیں ان کا اور جو بیانات ہیں، ان دونوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے اس تفتیش کی رپورٹ دیکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اگر 90 دن رکھنے کے باوجود بھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں تو پھر فیصلہ کس بنیاد پر دیا گیا ہے؟‘

دریں اثنا وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت میں رینجرز کے مشروط اختیارات پر اختلافات حل نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں