’فوجی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان شام سمیت دیگر ممالک کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں 34 ممالک کے اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا گیا ہے۔

پیر کو سینیٹ میں خطاب کے دوران اُنھوں نے کہا کہ اس اتحاد میں پاکستان کے کردار کے بارے میں سعودی حکام سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کی اسلامی ممالک کے اتحاد میں شمولیت کی تصدیق

دہشت گردی کے خلاف 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد

’اتحاد سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف سنّیوں کا کردار بڑھے گا‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ 34 ممالک کا اتحاد نہیں بلکہ کولیشن ہے اور اس میں سعودی حکام کا واضح موقف ہے کہ اس میں شامل تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کا خود تعین کریں گے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس کولیشن میں اپنی ذمہ داریوں سے متعلق ہوم ورک کر لیا ہے اور جب یہ ہوم ورک مکمل ہو جائے گا تو اس بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے استفسار کیا کہ جب ہوم ورک مکمل ہی نہیں ہوا تو اس سے پہلے اس کولیشن میں شامل ہونے کی کیا ضرورت تھی؟

اُنھوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ اس کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جاتا، جس پر سرتاج عزیز نے کہا کہ وقت سے پہلے اس پر بات نہیں کر سکتے تھے۔

سینیٹ کے چیئرمین نے کہا کہ اس کولیشن میں شام، عراق اور ایران کو شامل نہیں کیا گیا تو اس سے کچھ حلقوں میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید یہ کولیشن ان ممالک کے خلاف ہے۔

خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت دی ہے جو عدم مداخلت کی پالیسی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان شام سمیت دیگر ممالک کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہونے کی توقع ہے جب کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔

اُنھوں نےکہا کہ بھارت نے پاکستان کے درمیان تمام حل طلب معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اسی بارے میں