نواب بگٹی کے ڈی این اے اور قبر کشائی کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ درخواستیں بدھ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں دائر کی گئیں۔

بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کا ڈی این اے ٹیسٹ اور قبر کشائی اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرانے کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

یہ درخواستیں بدھ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں دائر کی گئیں۔

نواب بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے دو درخواستیں دائر کی گئیں۔

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ نواب بگٹی کا ڈی این اے ٹیسٹ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کرایا جائے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں انٹر نیشنل فرانزک ٹیم کے ذریعے نواب بگٹی کا ڈی این اے ٹیسٹ اور موت کی وجوہات کی تحقیقات کرائی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ دوسری درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ ان لوگوں کو بھی بطور گواہ طلب کیا جائے جو نواب بگٹی سے آپریشن سے قبل ثالثی کے لیے ملتے رہے۔

عدالت کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا کہ ان لوگوں کو بطور گواہ شامل کرنا ضروری ہے ۔

ان کا کہنا تھا ’مشاہد حیسن سید نے پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد یہ بیان دیا تھا کہ جب ہم نواب صاحب کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے تو سیویلین اور ملٹری ایسٹبلشمنٹ میں انتہا پسند بولتے تھے کہ وہ نواب بگٹی کے ساتھ کوئی معاہدے نہیں کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرا مشاہد حسین سے آج بھی یہی سوال ہے کہ اگر ایسٹیبلشمنٹ معاہدے کے لیے تیار نہیں تھی تو میر ے والد کو بتاتے کہ جی یہ معاہدہ نہیں کر رہے اور ہم ایسے ٹائم پاس کرنے آ رہے ہیں‘

جمیل اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ’مشاہد حسین بھی عدالت آئیں اور یہ بتائیں کہ کیا تھااور کیا نہیں تھا۔‘

نواب بگٹی کے قتل کا مقدمہ سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے علاوہ تین دیگر ملزمان کے خلاف چل رہا ہے۔