بلوچستان میں پرتشدد واقعات، 10 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیرہ بگٹی میں اس وقت بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹھکرائی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق ایران سے متصل ضلع کیچ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا۔

ترجمان نے بتایا کہ کیچ کے علاقے بل نگور میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع تھی جس پر وہاں کارروائی کی گئی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ دو روز کے دوران ان علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران چھ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ جن میں ایک اہم کمانڈر کے بھائی غنی بھی شامل تھے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق اب اس علاقے میں ایف سی کی چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔

اس علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ اور کالعدم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے بھی میڈیا کو بیانات جاری کیے ہیں۔

ان تنظیموں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بیانات کے مطابق ان جھڑپوں میں چار مزاحمت کار ہلاک ہوئے جن میں دو کا تعلق بلوچستان لبریشن فرنٹ اور دو کا تعلق بلوچ ریپبلیکن آرمی سے تھا۔

دوسرا سرچ آپریشن ضلع قلات کے علاقے سوراب میں کیا گیا۔ ایف سی کے ترجمان نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران ایک کالعدم تنظیم کا کمانڈر مارا گیا ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کا ایک دھماکہ ہوا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ضلع کے بیکڑھ کے علاقے بل میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ بچھائی تھی۔

یہ بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹھکرائی۔ بارودی سرنگ پھٹنے سے موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں