جُوراں کا کرسمس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’کرسمس پر جوراں محلے والوں کی نگاہوں میں ترقی پا کر انسان کے درجے تک آ جاتی‘

تب تک رحیم یار خان میں ایک ہی چرچ تھا۔ اس کے دروازے پے لگی تختی پہ لکھا تھا ’خداوند کا گھر سب کے لیےکھلا ہے۔‘

ایسٹر اور کرسمس کے موقع پر اس کی چاردیواری پر چراغاں ہوتا۔ مقامی مسیحی ایسٹر کے تہوار کو چھوٹا دن اور کرسمس کو وڈا دن کہتے تھے۔

شاید اس کا نام منظوراں ہوگا جو بگڑ کے جوراں ہوگیا تھا۔

سانولے رنگ کی ادھیڑ عمر موٹی سی جوراں کو میں یوں جانتا تھا کہ صبح سویرے سکول جاتے ہوئے گھر کے سامنے کی سڑک پر باقاعدگی سے ایک بڑی سی جھاڑو پھیرتے ہوئے دیکھتا تھا۔

وہ اکثر کہتی ’سوہنا میاں جی سکولے جا ریہا ہے‘ اور میں اس سے ہاتھ ملا کے تیزی سے بستہ گھماتا اور اوجھل ہو جاتا۔

جوراں کہاں رہتی تھی؟، کہاں سے آتی تھی؟ کسی کو نہیں معلوم۔ معلوم ہوتا بھی کیسے؟ اس محلے اور جوراں کا رشتہ بس اتنا ہی تھا کہ لوگ اس کی جھاڑو سے اٹھنے والی گرد سے بچتے ہوئے بڑبڑاتے آگے بڑھ جاتے۔

’جوراں خیال سے جھاڑو دیا کر‘، ’جوراں آتے جاتے کو دیکھ لیا کر‘، ’جوراں ذرا بچ کے گردا اڑایا کر‘، ’جوراں اندھی ہو گئی ہے کیا؟‘ اور جوراں ایک معذرت خواہانہ مسکراہٹ سجائے ہر کسی کو جواب دیتی رہتی ’صاحب جی گسے نہ ہو‘، ’صاحب جی تسی وی کھلو جایا کرو‘، ’صاحب جی سویرے سویرے بوکر دینا ساڈی وی مجبوری اے‘، ’باجی جی گردا اڈانا کینہوں چنگا لگدا اے‘، ’صاحب جی جیہہ میں چنگی صفائی نہ کیتی تو کل تسی آ کھو گے جوراں کپتی کم چور اے۔‘

جب بھی کرسمس کی آمد آمد ہوتی تو سال میں یہی ایک موقع ہوتا جب جوراں صرف جھاڑو دینے والا گرد آلود ہیولہ نہیں بلکہ محلے والوں کی نگاہوں میں ترقی پا کر انسان کے درجے تک آ جاتی اور پھر جوراں کرسمس سے ایک دن پہلے محلے کے ہر گھر کی کنڈی بجاتی ’صاحب جی، باجی جی وڈے دن دا سلام‘ اور پھر لدی پھندی واپس جاتی۔ اس کے بعد جوراں دو تین دن بعد ہی لوٹتی۔ پھر وہی جھاڑو، وہی گرد اور آس پاس سے گذرنے والوں کی گرد آلود باتیں۔

اللہ بخشے میری دادی جان کو۔ جوراں محلے کے ہر گھر کی طرح ان کے پاس بھی آ کے کہتی ’وڈے دن دا سلام اماں جی، کل میں چرچ دے فادراں اگے تہاڈے لئی دعا کراں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’کرسمس کے بعد پھر وہی جھاڑو، وہی گرد اور آس پاس سے گذرنے والوں کی گرد آلود باتیں‘

مگر مجھے بہت عجیب سا لگتا کہ دادی جان جوراں کے سلام کا کوئی جواب نہ دیتیں اور اپنی چادر کی گرہ کھول کر ایک روپے کا سکہ تپائی پے رکھ کے منہ پھیر لیتیں۔

جوراں وہ سکہ مسکراتے ہوئے اٹھا لیتی اور خاموشی سے چل پڑتی۔ شکر ہے دادی کو کبھی یہ پتہ نہ چلا کہ جوراں تو مجھ سے ہاتھ ملاتی ہے۔ ہوسکتا ہے مرغیوں کو ہنکالنے کے کام آنے والی کھجور کی خشک چھڑی پھر میری ہتھیلیوں پر ہی ٹوٹتی۔

دن گذرتے چلے گئے اور میں چوتھی جماعت میں پہنچ گیا۔ ایک دن دادی کو فالج ہوگیا اور نویں دن چل بسیں۔

جب میرے والد، تایا اور دونوں پھوپھیاں تجہیز و تکفین اور تعزیت وصولی سے فراغت پا گئیں تو بڑے پھوپھا نے سب کو بٹھا کے ایک صندوقچی درمیان میں یہ کہتے ہوئے رکھی کہ اماں جان کا حکم تھا کہ اسے ان کے انتقال کے بعد کھولا جائے۔ چنانچہ کھولا گیا تو اس میں سے ایک تہہ دار پرچہ نکلا جس میں ترکے کی تقسیم کی تفصیلات تھیں۔

پھوپھا جان نے وہ کاغذ با آوازِ بلند پڑھا۔ میرے والد کے حصے میں بڑی مسہری اور وہ نقشین پلنگ آیا جس پر دادی کا انتقال ہوا تھا۔ تایا جان کو کتابوں سے بھری الماری ملی۔ بڑی پھوپھی کو سونے کا گلو بند اور چھوٹی پھوپھی کو سنہری بندے اور چار طلائی چوڑیاں ترکے میں ملیں اور میری ماں کو دادی کے استعمال کے سب برتن۔

پرچے کا آخری جملہ تھا کہ قرآن شریف کے جزدان کی جیب میں موجود 1,358 روپے اور چاندی کا کڑا جوراں کو تاکید سے پہنچا دیا جائے۔

اسی بارے میں