مودی کے دورے سے میڈیا میں ہلچل

Image caption پاکستانی اور بھارتی میڈیا میں اس حیران کن دورے کی خبروں کا چرچا ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک پاکستان دورے سے دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔

نریندر مودی کابل کے دورے پر تھے جہاں انھوں نے ملک کی پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح کیا اور افغانستان کو جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کا بھی عندیہ دیا تھا۔

نواز شریف سے ملاقات، نریندر مودی لاہور میں

’ناشتہ کابل، لنچ لاہور، ڈنر دہلی میں‘

’اندازہ لگائیں مودی کے علاوہ اور کون ہے لاہور میں‘

یہ کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا سنہ 2004 کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

پاکستانی اور بھارتی میڈیا میں اس حیران کن دورے سے ہلچل مچ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا سنہ 2004 کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے

خیال رہے کہ نریندر مودی نے گرینج کے معیاری وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر ایک منٹ پر ٹویٹ کیا تھا کہ وہ افغانستان سے بھارت واپسی پر لاہور آئیں گے۔

یہ اعلان دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ کے لیے خاصا حیران کن تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سرحد کے دونوں جانب یہ خبر مکمل طور پر ذرائع ابلاغ پر چھا گئی۔

ابتدائی طور پر ’بریکنگ نیوز‘ چلی اور چند منٹوں کے بعد ہی دونوں جانب نیوز ایجنڈے کی شکل اختیار کر لی ۔ نیوز چینلوں کی جانب سے اپنے نمائندوں سے حاصل ہونے والی تفصیلات لی جانے لگیں اور مختلف طرح کے ماہرین سے فون پر انٹرویوز کیے جانے لگے۔

پاکستان میں سرکاری چینل پی ٹی وی کے ساتھ ساتھ بیشتر پرائیویٹ چینلوں کی جانب سے مودی کے دورے کی تصدیق کے لیے پاکستان کے دفتر خارجہ کا بیان نشر کیا گیا۔

اس اعلان کے فوراً بعد ہی جیو نیوز نے ماہرین کا پینل بلا لیا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سرپرائز ڈپلومیسی‘ موضوع گفتگو بن گئی۔

میڈیا کے جوش و خروش کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے جب ٹی وی پر یہ بڑا سوال موضوع بحث بننے لگا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ MEAIndia
Image caption وزیراعظم مودی کابل کے سرکاری دورے سے واپسی پر لاہور پہنچے ہیں

نجی چینل ایکسپریس نیوز نے نریندر مودی کے مارچ میں پاکستان آمد سے قبل لاہور کے دورے کو سفارتی ’بریک تھرو‘ قرار دیا۔

ایک اور چینل کے ایک رپورٹر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر موضوع بحث آئے گا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں معمول پر لانے میں مددگار ہوگی۔

یہ سب ایسی صورت حال میں موضوع بنایا جا رہا تھا جب نریندر مودی نے صرف کچھ دیر ہی لاہور میں قیام کرنا ہے۔

میڈیا کی امیدوں کا اندازہ ان جملوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے جب پی ٹی وی ورلڈ کے ایک میزبان نے کہا کہ یہ ’گراؤنڈ بریکنگ قدم‘ ہے اور ’امید ہے کہ یہ ملاقات سے اچھی ثابت ہوگی۔‘

اس کے بعد اسی چینل پر مختلف ماہرین کے فون کے ذریعے انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہوا جس میں اس دورے کی اہمیت کے بارے میں آرا لی گئیں۔ اگرچہ بیشتر ماہرین نے مثبت خیالات کا اظہار کیا۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ’کرٹسی کال‘ ہے اور ’بہت زیادہ امیدیں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ کشمیر کے مسئلے کو سمجھا جاتا ہے

دوسری جانب بھارتی نجی چینل این ڈی ٹی وی 24x7 پر بھی خصوصی گفتگو نشر کی گئی۔ ان کے پاکستان میں نمائندے کا کہنا تھا کہ اس دورے کے بارے میں عین موقعے پر اعلان کرنا شاید ذرائع ابلاغ میں غیرضروری شور شرابے سے اجتناب کے لیے کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان حل طلب مسائل کے حوالے سے میڈیا کا امیدیں باندھنا ایک چیلنج کی صورت میں سامنا آیا تھا۔

سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز نے اس حوالے سے قیاس آرائی کی کہ نریندر مودی پاکستان میں ذاتی طور پر نواز شریف کو ان کی سالگرہ کی مبارک باد دینے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 25 دسمبر بانی پاکستان محمد علی جناح کا بھی جنم دن ہے، اور اس حوالے سے ملک میں یہ اہم دن تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی چینل این ڈی ٹی وی پر ایک مہمان نے اس حوالے سے گفتگو کی کہ 26 دسمبر بھارت کو مطلوب مافیا ڈان داؤد ابراہیم کا جنم دن ہے، جن کے بارے میں بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔

میڈیا کے جوش کا یہ عالم بھی دیکھا گیا کہ متعدد نیوز چینلوں نے یہ خبر بھی نشر کر دی کہ نریندر مودی لاہور پہنچ چکے ہیں، حالانکہ وہ ابھی کابل میں ہی تھے۔

Image caption متعدد نیوز چینلوں نے یہ خبر بھی نشر کر دی کہ نریندر مودی لاہور پہنچ چکے ہیں، حالانکہ وہ ابھی کابل میں ہی تھے

یہ جب واضح ہونا شروع ہوگیا کہ مودی ابھی کابل میں ہی ہیں، پاکستانی نجی چینل اے آر وائی نیوز نے پاکستانی وقت کے مطابق 3:17 خبر نشر کر دی کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہو چکی ہے۔

نریندر مودی کے دورہ پاکستان کی کوریج کے برعکس بھارتی وزیراعظم کے دورہ افغانستان کے حوالے سے محدود کوریج دیکھنے میں آئی اور صرف سرکاری چینلوں پر ہی اس کو زیادہ کوریج دی جارہی تھی۔

پرائیویٹ ہندی چینل ’آج تک‘ کے صبح آٹھ جی ایم ٹی کے بلیٹن میں معروف بھارتی اداکارہ کی خبر کو مودی کے افغانستان دورے پر فوقیت حاصل تھی، جبکہ ہندی چینل این ڈی ٹی وی نے صبح ساڑھے سات بجے جی ایم ٹی نریندر مودی کو افغانستان کی پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح کرتے دکھایا۔

میزبان کی گفتگو کا مرکز مودی کے دہشت گردی سے متعلق بیان تھا۔ میزبان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کو ایک سخت پیغام ہے۔‘ پاکستان پر اکثر طالبان کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں