بینڈ جو مذہبی گیت گاتا ہے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہیلالویا پاکستان سے ابھرنے والا ایک ایسا میوزک بینڈ ہے جس نے پاکستان میں گاسپیل میوزک بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

اس گروپ کے چھ ممبران تو موسیقی کے شعبے سے مختلف پیشہ وارانہ حیثیتوں میں منسلک ہیں لیکن اپنی ان صلاحیتوں کو وہ اپنے مذہب کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

بینڈ کے گروپ لیڈر انتھونی سشیل شاہ کہتے ہیں کہ موسیقی ان کے لیے عبادت کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ان کے مذہب اور چرچ کی رسومات سے ہے۔

لیکن ساتھ ہی وہ پاکستان میں بسنے والے مسیحی افراد کے بیرون ملک تاثر کو بھی بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

انتھونی سشیل کہتے ہیں: ’ہم پیس کا، لو کا میسج ڈیلیور کرنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu

تاہم اپنا یہ پیغام لوگوں تک پہنچانا ان کے لیے اتنا آسان نہیں ہے۔ پاکستان میں حالیہ سالوں میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری کو کئی بار دہشت گردی اور مذہبی منافرت کا نشانہ بنایاگیا ہے ۔ملک میں موجود سیکیورٹی خدشات نے ان افراد کی معمول کی زندگی خصوصاً مذہبی تقریبات کے طریقہ کار کو خاصی حد تک تبدیل کر دیا ہے ۔

ہیلا لویا بینڈ پاکستان میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور کئی دوسرے شہروں میں قائم گرجا گھروں میں پرفارم کر چکا ہے لیکن ان کا کہنا ہےکہ پاکستان میں چرچ کے اندر اور اس کے ارد گرد ماحول یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔

پاکستان شالوم یوپی چرچ کے پادری انچارج ڈاکٹر خالد ہدایت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں بسنے والے مسیحی افراد کے لیے فضا میں تناؤ تو ہے لیکن یہاں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگ اب خوفزدہ ہیں۔

’پورا پاکستان خوف میں ہے۔ سارا پاکستان اور جب سے یوحنا آباد والا واقع ہوا ہے اس وقت سے ٹینشن بڑھ گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان میں مسیحیوں کی تقریباً دو فیصد آبادی کو لاحق ایسے خدشات اور خوف کے باوجود ہیلا لوجا میوزک بینڈ مسیحی نوجوانوں کے ساتھ اپنی موسیقی کا تعلق جوڑنا چاہتے ہیں۔

راک موسیقی کی طرز اور مغربی سازوں کے ساتھ وہ اپنے گیتوں کو اردو پنجابی اور انگریزی میں تخلیق کرتے ہیں تاکہ اسے سوسائٹی کے مرکزی دھارے میں جگہ مل سکے۔

اس بینڈ کے ممبر وقار پیٹر گلِ کہتے ہیں کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں امن کی بات کرنے والے نہ جانے کیوں گاسپیل میوزک کے رحجان پر بات نہیں کرتے۔

’جس طرح صوفی میوزک کے فیسٹیول ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں وہ لوگ ریپریزنٹ ہوتے ہیں اب ہماری بہت خواہش ہے کہ اسی طرح سے کرسچن میوزک کو بھی دنیا میں جگہ جگہ ریپریزنٹ کیا جائے ۔‘

ہیلالوجا میوزک بینڈ تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان میں مسیحی ہونا آسان نہیں ہے ۔ لیکن شاید شوبز وہ واحد شعبہ ہے جہاں پاکستانی مسیحی افراد کے لیے بھی اتنے ہی مواقع ہیں جتنے مسلمان یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کے لیے ہو سکتے ہیں۔ اینتھنی سشیل شاہ کہتے ہیں اس فیلڈ میں ٹیلینٹڈ لوگوں کے ساتھ کبھی امتیاز نہیں برتا جاتا۔

ہیلالویا بینڈ کا ایک اور مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں مسیحی مذہبی موسیقی کو مسیحی افراد ہی گائیں اور تخلیق کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu

انتھونی سشیل شاہ کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان میں ماضی میں کئی نامور پاکستانی گلوکار اور موسیقار جیسے اے نیئر، روبن گھوش، تحسین جاوید، سلیم رضا، رونا لیلیٰ، احمد رشدی فلم انڈسٹری اور ٹیلیویژن پر اپنا نام پیدا کر چکے ہیں اور نئے دور میں گمبی ، شالم زیویر اور کامی پال وغیرہ مختلف میوزک بینڈز کے ساتھ پرفارم کرتے ہیں۔

اس کے باوجود پاکستان میں روایتی طور پر چرچ میوزک یا مسیحی مذہبی گیت مقامی لوک موسیقی اور مغربی طرز کی دھنوں پر بنائے جاتے تھے جنہیں زیادہ تر غیر مسیحی افراد گایا کرتے تھے۔

ہیلالوجا بینڈ اب تک ایک البم ریلیز کر چکے ہیں اور مذہبی گیتوں پر مشتمل دوسری البم جلد سامنے آئے گی۔ ان کا مرکزی ذریعہ تشہیر سوشل میڈیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی موسیقی کی کوالٹی اور ان کے پیغامات مسیحی نوجوانوں کو مذہب کی طرف راغب کرنے کا موثر ذریعہ ہو سکتے ہیں ۔