’پاکستان، افغانستان بحالی امن کے مشترکہ عمل پر متفق‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے درمیان چار فریقی مذاکرات کا پہلا دور جنوری میں ہوگا

پیر کو پاکستان اور افغانستان بحالی امن کے لیے اس مذاکراتی ڈھانچے کے تحت دوبارہ کام کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں جس میں چین اور امریکہ بھی شامل ہوں گے۔

پاکسانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے تعاون کریں گے اور آپس میں مل کر کام کریں گے۔

’افغانستان میں امن، مصالحت کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت‘

اس سے قبل پیر کی صبح جنرل راحیل شریف افغان صدر اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور دیگر سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ملاقات کے لیے کابل پہنچے تھے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنی مشرکہ ذمہ داری کا ادراک رکھتے ہوئے تمام فریق افعانستان کی قیادت میں ہونے والے مذاکراتی اور مصالحتی عمل کی حمایت کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ عمل کامیاب ثابت ہو۔‘

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے درمیان چار فریقی مذاکرات کا پہلا دور جنوری میں ہوگا جس میں بحالی امن کے ایک بامعنی عمل کے لیے واضح اور جامع نقشۂ راہ یا روڈ میپ کی شکل دی جائے گی۔ اس نقشۂ راہ میں ہر فریق کی ان ذمہ داریوں کا احاطہ کیا جائے گا جو مذکورہ فریق کو بحالی امن کے مختلف مراحل پر ادا کرنا ہوں گی۔

پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق پیر کی بات چیت میں دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے طالبان کے ان گروہوں سے بات چیت کی کوشش کریں گے جو قیام امن اور مصالحت کے عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ عناصر جو اس پیشکش کے بعد بھی تشدد کا راستہ اپنائے رکھیں گے ان کا مقابلہ ایک مشترکہ حمکت عملی کے تحت کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فریقین نے خفیہ معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات میں جنرل راحیل شریف نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک موثر نظام قائم کیا جائے جس کا مقصد درمیانی سرحد سے آر پار جانے والے افراد اور قبائلیوں کی آمد ورفت میں ربط پیدا کرنا ہو۔

جنرل راحیل شریف کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بیان میں مزید کہا گیا ہے پاکستانی فوج کے سربراہ اور افغان قیادت اور حکام نے ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ دہشتگردی کے خطرے کا مل کر مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ مستعدی سے کریں گے تا کہ دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہ کی جا سکے۔

جنرل راحیل شریف کے ایک روزہ دورے سے پہلے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو اس ماہ کے شروع میں اسلام آباد میں افغانستان کے بارے میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرس کے انعقاد سے قبل نو دسمبر کو کابل جانا تھا لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی پیچیدگی کے باعث یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات پہلی مرتبہ اس سال جولائی میں پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد کے قریب سیاحتی مرکز مری میں منعقد ہوئے تھے، لیکن مذاکرات کا یہ سلسلہ طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کی طبی موت واقع ہونے کی خبر سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں