لاہور میں طالبہ سے ریپ کے ملزمان کا ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption عدالت نے تمام ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے

لاہور میں 15 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے ملزموں کو مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جہاں عدالت نے تمام ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر کے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

ریپ کے مقدمات میں صرف چھ فیصد کو سزائیں

طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ سنیچر کے روز منظرعام پر آیا تھا، جب ایک 15 سالہ لڑکی کو شراب پلا کر مال روڈ کے ایک ہوٹل میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد میں لڑکی کو زخمی حالت میں سروسز ہپستال پہنچایا گیا جہاں اس نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا انکشاف کیا۔ اجتماعی زیادتی کے کیس میں آٹھ ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا، جس میں مرکزی ملزم عدنان ثنا اللہ کا تعلق حکمران مسلم لیگ ن کے یوتھ ونگ سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس نے واقعے کے فوراً بعد چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ مال روڈ پر واقع ہوٹل کو سیل کر کے اس کے مالک کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

تاہم مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے کئی گھنٹے تک چھاپے مارے جاتے رہے، اور بالآخر گذشتہ روز اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

پولیس نے آٹھوں ملزمان کو آج کینٹ کچہری میں پیش کیا اور عدالت سے درخواست کی کہ انھیں دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے تاکہ تمام پہلوں سے واقعے کی تحقیقات کی جا سکیں۔

چار ملزمان کے وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے جنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے موکلوں کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ انھوں نے تو لڑکی کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

تاہم عدالت نے آٹھوں ملزمان کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو حکم دیا وہ تمام ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائیں اور رپورٹ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کریں۔

اسی بارے میں