’غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ناصر مانسہرہ سے کراچی آئے ہیں اور انھیں یہاں ملازمت کی تلاش ہے، لیکن اس سے قبل انھیں شہر کے رنگ ڈھنگ میں ڈھلنا ہے اور اس کے لیے ان کا بہترین انتخاب شہر کا علاقہ صدر تھا جہاں جینز اور شرٹس کی کئی ریڑھیاں لگی ہوئی ہیں۔

ناصر نے بھی اس مارکیٹ سے چار پتلونوں کا انتخاب کیا اور سودا چار سو روپے میں طے ہوا۔

ناصر کے مطابق یہاں جینز اچھی اور سستی مل جاتی ہیں جو ایک غریب بندے کے لیے بہترین آپشن ہے اور ’اگر آمدنی بہتر ہو تو ٹھیک ہے ورنہ لنڈا بیسٹ ہے۔‘

کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت عام ہے، کئی مقامات پر تو انھوں نے مستقل بازاروں کی بھی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں متوسط طبقے کے لوگوں کو بھی بڑی کمپنیوں کے ملبوسات کی تلاش ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سردی ہو تو اکثر غریب لوگوں کی اولین ترجیح یہی ریڑھیاں ہوتی ہیں

ویسے تو ہفتے کے ساتوں روز ان مارکیٹوں میں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے لیکن اتوار کے دن ان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر سردی ہو تو اکثر غریب لوگوں کی اولین ترجیح یہی ریڑھیاں ہوتی ہیں۔

جیکٹس کی ایک ریڑھی پر محمد حنیف دو بچوں کے ساتھ نظر آئے انھوں نے دو جیکٹوں کا سودا کیا تھا۔

محمد حنیف نے بتایا کہ اگر وہ یہ کسی شاپنگ مال سے لیتے تو انھیں دو سے تین ہزار کی ملتی، یہاں سو سو رپے کی دو جیکٹس مل گئیں اب اس کو دھو کر پہن لیں گے۔

’اگر یہ لنڈا نہ ہو تو غریب سردی میں ہی مر جائے، غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے۔‘

پاکستان میں استعمال شدہ کپڑوں کی کھپت بڑھنے کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ بھی بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ سال تقریبا دو لاکھ 20 ہزار ٹن کپڑے برآمد کیے گئے جبکہ رواں سال یہ مقدار چار لاکھ 65 ہزار ٹن رہی۔

Image caption یہ کپڑے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے برآمد کیے جاتے ہیں

پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہیں، ایسے ہی لوگوں میں سے بڑی تعداد کا انحصار ان استعمال شدہ کپڑوں پر ہے۔

یہ کپڑے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے برآمد کیے جاتے ہیں اور حکومت نے اس پھلتے پھولتے کاروبار پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے اور فی کلوگرام پر 40 روپے سے لے کر 70 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کاروبار کو تو ٹیکس معاف ہونا چاہیے۔ پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد کے مطابق ان کپڑوں کا استعمال عام آدمی کے لیے ہے، کسی بڑے آدمی کے لیے نہیں جو ٹیکس بچانے کے لیے خرید یا بیچ رہا ہو۔

Image caption کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت عام ہے

’پاکستان استعمال شدہ کپڑے برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، تجارت اور استعمال کے حوالے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا انحصار اس پر ہے، لہٰذا اس کاروبار پر کم سے کم ٹیکس ہونا چاہیے۔‘

پاکستان میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی پہلی منزل کراچی ہے، جہاں سے انھیں اندرون ملک کے علاوہ دیگر ملکوں کی طرف بھی روانہ کیا جاتا ہے۔

کراچی کے علاقے شیر شاہ میں کئی گودام ان کپڑوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں ہر آنے والی گٹھڑی میں سے عمر اور جنس کے علاوہ معیار کے مطابق چھانٹی کی جاتی ہے۔

محمد ارشد نامی ہول سیل ڈیلر کے مطابق ان کپڑوں کی اے، بی اور سی کیٹگری بنائی جاتی ہے، ان میں سے اعلیٰ کوالٹی کے ملبوسات دبئی اور افریقی ممالک بھیجے جاتے ہیں جبکہ باقی مقامی مارکیٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستان میں گیس اور بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ، جنگلات میں کمی کے بعد سخت سردی میں عام لوگوں کے پاس خود کو گرم رکھنے کے لیے گرم کپڑے ہی بہترین آپشن رہ گیا ہے۔

یہ کاروبار مہنگائی میں غریبوں کو تن ڈھکنے اور متوسط طبقے کو فیشن کے ساتھ ہم قدم ہونے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ گارمنٹس کی مقامی صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچانے کا بھی سبب ہے۔

Image caption کراچی کے علاقے شیر شاہ میں کئی گودام ان کپڑوں سے بھرے پڑے ہیں

اسی بارے میں