وزیرستان میں فوج کے ’جاسوس‘کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویڈیو کے مطابق حکومت نے پہلی کارروائی سنہ 2012 میں وانا میں مساجد پر چھاپوں کی شکل میں کی تھی (فائل فوٹو)

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ایک گروہ ’اتحاد مجاہدین خراسان‘ نے میڈیا کو ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں طالبان کے خلاف سرگرم ایک ’جاسوس‘ کو پاکستانی فوج کی مبینہ مدد کے الزام میں پکڑ کر ہلاک کیا ہے۔

سیاہ نقاب اوڑھے اس گروپ کے مسلح اراکین کو بظاہر جنوبی وزیر ستان کے مرکزی بازار وانا اور دیگر مقامات پر گشت کرتے اور دکانوں اور مسافرگاڑیوں سے مشتبہ جاسوسوں کو پکڑتے اور زدوکوب کرتے دکھایا گیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کی میڈیا شاخ کی ای میل سے ارسال کی گئی اس ویڈیو میں ایک مبینہ جاسوس محمد یاسر کا، جو اپنا اصل نام اشفاق احمد سکنہ سمندری (فیصل آباد) بتاتا ہے، اعترافی بیان اور آخر میں اس کی ہلاکت بھی دکھائی گئی ہے۔

ای میل کے دعوے کے مطابق ویڈیو جاری کرنے والا ادارہ ’اتحاد مجاہدین خراسان‘ جاسوسوں کی سرکوبی کے لیے عرصہ دراز سے وزیرستان میں سرگرم ہے۔

اس ویڈیو پر پاکستانی فوج کا ردعمل سامنے نہیں آیا کہ آیا وہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے جاسوسوں کے ذریعے خاتمے کی اس طرز کی کوئی مہم چلا رہی ہے یا نہیں، تاہم عام تاثر یہی ہے کہ پاکستانی فوج جاسوسوں کے ذریعے اکٹھی کی گئی معلومات کے ذریعے مسلح مقابلے یا ڈرون حملوں میں شدت پسندوں کو ہلاک کروا دیتی ہے۔

ماضی میں بھی جب افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع قبائلی علاقوں میں حالات فوج کے خلاف ہوئے ہیں تو مبینہ جاسوسوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی جاتی رہی ہے۔ اس قسم کی مہم کے دوران سینکڑوں مبینہ جاسوس ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ویڈیو میں اشفاق احمد عرف محمد یاسر اپنے اعترافی بیان میں بتاتا ہے کہ اس سے پاکستانی فوج کے کسی اہلکار کا پہلا رابطہ سنہ 2012 میں کرنل یاسین نامی اہلکار سے ملاقات میں ہوا تھا جس میں انھوں نے اسے ان کے ساتھ مل کر مقامی شدت پسندوں، خصوصا غیرملکیوں، کے خلاف کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس کے بعد بقول اشفاق احمد کے وہ عبدالخالق نامی فوجی اہلکار سے رابطے میں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اشفاق کے مطابق وہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ سنہ 1997 سے سرگرم تھے (فائل فوٹو)

اردو اور پشتو زبانوں میں جاری کیے گئے الگ الگ بیانات میں اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ اس کی دی ہوئی معلومات کی روشنی میں حکومت نے پہلی کارروائی سنہ 2012 میں وانا میں مساجد پر چھاپوں کی شکل میں کی تھی۔ ’اس کے مجھے ساڑھے تین لاکھ روپے ملے تھے۔ اس کے بعد ایک اور مدد کے پانچ کروڑ بھی ملے۔‘

اشفاق کے مطابق وہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ سنہ 1997 سے سرگرم تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں جنوبی وزیرستان میں ہی اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم کی جانب سے ایک دستی خط وانا میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں لوگوں سے امریکہ کے لیے جاسوسی نہ کرنے کا کہا گیا تھا۔

اسی بارے میں