نوجوان مزدور کا ہاتھ ’کاٹنے‘ کی تحقیقات شروع، ملزمان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایف آئی آر میں متاثرہ لڑکے کے والد نے بتایا کہ زمیندار نے ان پر الزام لگایا تھا کہ ہم نے ان کے 15ہزار روپے ادا کرنے ہیں جبکہ ہم نے یہ رقم ادا کر دی تھی

پنجاب کے ضلع حافظ آباد کے سابق ضلعی ناظم کی زمینوں پر کام کرنے والے نوجوان مزدور کے ہاتھ کاٹے جانے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے گذشتہ روز اس واقعے کے میڈیا پر سامنے آنے کے بعد اس کی فوری تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔

حافظ آباد تھانے کے ایس ایچ او محمد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ 22 اکتوبر 2015 کی صبح ان کے تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا تاہم متاثرہ لڑکے کے والد محمد صدیق نے اس کی ایف آئی آر گذشتہ روز درج کروائی ہے جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسرارالحق کا حافظ آباد میں ڈیڑھ سو بھینسوں کا فارم تھا جہاں شیخوپورہ سے آنے والا محمد ابوبکر اور محمد طارق جانوروں کو چارا ڈالنے کا کام کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکے کے ایک ہاتھ کی انگلیاں اور دوسرا ہاتھ مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔

پاکستان کے مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق 16 سالہ ابوبکر کو نہ تو تنخواہ دی جا رہی تھی اور نہ ہی گھر جانے کی اجازت تھی۔

ایف آئی آر میں متاثرہ لڑکے کے والد نے بتایا کہ زمیندار نے ان پر الزام لگایا تھا کہ ہم نے ان کے 15 ہزار روپے ادا کرنے ہیں جبکہ ہم نے یہ رقم ادا کر دی تھی۔

’انھوں نے ہمیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور وچھوکی لے آئے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ سات محرم کو میں وچھوکی میں تھا تو کسی نے مجھے بتایا کہ تمھارے بیٹے کی انگلیاں کٹ گئی ہیں۔

محمد صدیق کا کہنا ہے کہ ان پر دباؤ تھا اور وہ پہرے میں رہ رہے تھے، ایک دن موقع ملنے پر وہاں سے بھاگ گئے۔

ایس ایچ او تھانہ کسوکی محمد محمود واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور انھیں جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ متاثرہ لڑکے کے میڈیکل چیک اپ کی درخواست دے دی گئی ہے۔

تھانے میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار کی جانب سے ایف آئی آر کی نقل پڑھ کر سنائی گئی تاہم ایس ایچ او نے بی بی سی سے گفتگو میں ایف آئی آر کی تحریر کے برعکس بتایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ویڈیو بیان میں لین دین کی رقم کا ذکر ہی نہیں ہوا۔

’ابتدائی رپورٹ میں تو اتفاقی حادثہ ہی لگتا ہے، جس طرح کام کرتے ہوئے عام مزدوروں کے ساتھ ہو جاتا ہے۔‘

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے منگل کی سہ پہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق سامنے آیا ہے کہ بچے کا ایک ہاتھ چارا کاٹنے کے دوران کٹا۔

اسی بارے میں