مردان میں نادرا کے دفتر پر خودکش حملہ، کم سے کم 26 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں ایک خودکش بم دھماکے میں پولیس کے مطابق کم سے کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ شہر کے مرکزی علاقے دوسہرہ چوک میں نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے دفتر کے قریب ہوا۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ دن دو بج کر دس منٹ پر نادرا آفس کے مرکزی گیٹ کے ساتھ ہوا۔

مردان کے سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز حشمت علی زیدی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ یہ خود کش دھماکہ تھا اور اس 45 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

زخمیوں کو مردان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچایا گیا ہے جبکہ بعض زخمی پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی لے جائے گئے ہیں۔

ڈی آئی جی مردان سعید وزیر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی گارڈ نے خودکش حملہ آور کو نادرا کی عمارت سے باہر ہی روک دیا اور اگر وہ اندر داخل ہو جاتا تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی تھی۔

سنیئے ڈی آئی جی مردان سعید وزیر کی بی بی سی سے گفتگو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض زخمی پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی لے جائے گئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو نادرا دفتر کے باہر قطار میں کھڑے تھے۔

ڈی آئی جی سعید وزیر نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا سر اور دونوں پاؤں مل گئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر عام شہریوں کا وہاں داخلہ بند کر دیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

سعید وزیر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مردان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر وہاں تو سکیورٹی بڑھائی گئی تھی تاہم نادرا یا اس جیسے دیگر سرکاری اداروں پر حملوں سے متعلق کسی قسم کی کوئی خاص انٹیلیجنس اطلاع نہیں تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نادرا کو پولیس کی جانب سے تنبیہات تو جاری کی جاتی تھی لیکن کوئی خاص سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے بقول نادرا دفاتر کے باہر نجی سکیورٹی گارڈز تعینات ہوتے ہیں۔

سعید وزیر کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس خودکش دھماکے میں دس سے 12 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

ادھر ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے مردان میں نادرا دفتر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ نادرا ایک ریاستی ادارہ ہے لہٰذا ایسے ادارے ان کے نشانے پر رہیں گے۔

ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے جاری بیان میں حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مردان میں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر ہمیں افسوس ہے، عوامی مقامات پر دھماکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو نادرا دفتر کے باہر قطار میں کھڑے تھے

وزیرِ اعظم نواز شریف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے جبکہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔