مودی کا ویزہ اور چیف کا دورہ سینیٹ میں موضوعِ بحث

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ تاثر غلط ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اور ان کے وفد کے دورہ پاکستان کے دوران ویزے کے اجراہ کے تقاضے پورے نہیں کیے گیے: سرتاج عزیز

منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ سینیٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ نواز کی حکومت پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہ ِکابل کی تفصیلات دینے سے قاصر رہی جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان کے دورہ سے متعلق بتایا گیا کہ مسٹرمودی سمیت 11 افراد کو لاہور ایئر پورٹ پر عارضی ویزے جاری کیے گیے تھے۔

حکومت کے مطابق بھارتی وفد میں شامل 100 کے قریب افراد نریندر مودی کی واپسی تک ایئرپورٹ کے اندر ہی موجود رہے اس لیے ان کے لیے ویزے کا اجرا ضروری نہیں تھا۔

مودی کے وفد نے ویزہ لیا یا نہیں؟

منگل کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے کہنے پر وزارت خارجہ کے امور کے مشیر سرتاج عزیز نے جنرل راحیل شریف کے دورہ کابل اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان سے متعلق بریفینگ دی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے متعلق بریفینگ دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ کھٹائی کے شکار پاک بھارت تعلقات میں گرم جوشی آئی ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ جنوری میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے بھارتی وفد کی بغیر ویزے کے پاکستان میں داخل ہونے کی خبروں کی تردید کی۔

انھوں نے کہا یہ تاثر غلط ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اور ان کے وفد کے دورۂ پاکستان کے دوران ویزے کے اجرا کے تقاضے پورے نہیں کیے گیے۔

انھوں نے سینیٹ کو آگاہ کیا کہ ’بھارتی وزیر اعظم اور ان کے وفد میں شامل 11 افراد کو 72 گھٹنے کا عارضی پاکستانی ویزا جاری کیا گیا تھا اور تمام امیگریشن کے تقاضے بھی پورے کیے گیے۔ جبکہ دیگر 100 کے قریب بھارتی وفد میں شامل افراد ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلے۔ وہ بھارتی وزیر اعظم کی واپسی تک ایئرپورٹ میں بھی موجود رہے اس لیے انھیں ویزے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

انھوں نے کہا تمام دنیا کے لیے بھارتی وزیر اعظم کا دورہ خوش آئند ہے۔

ایوان بالا میں حزب اختلاف کے اراکین نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی حمایت کر کی مگر دورے سے متعلق سرتاج عزیز کی بریفینگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جنرل راحیل شریف کے دورے افغانستان سے متعلق سینیٹ کو بریفینگ سے متعلق ایک دن (جمعرات تک) کی مہلت مانگی تو چیئرمین سینیٹ نے انھیں وقت دینے کے ساتھ ساتھ کہا کہ ’اگر آپ چاہے تو ان کیمرہ بھی بریفنگ دے سکتے ہیں۔ جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’اس کی شاید ضرورت نہیں لیکن میں سیکریٹیریٹ کو آگاہ کر دوں گا۔‘

اس سے پہلے ایوان بالا میں جنرل راحیل شریف کے دورہ ِکابل پر بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ ’ویسے تو یہ وزرات دفاع کامعاملہ ہے تاہم میں یہ بتاتا چلو کہ ماضی کی حکومتوں کے برعکس اس دورے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے تفصیلی بیان جاری کیا گیا ہے اور اس کے تناظر میں آنے والے باقی بیانات بھی جامع تھے لیکن میں نے وزیر دفاع سے کہا ہے کہ اگر مزید تفصیلات ہیں تو سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔‘

اس کے جواب میں سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے کہا ’کیا میرا یہ تصور کرنا غلط ہے کہ یہ معاملات وزرات خارجہ کے زمرے میں آتے ہیں؟‘

جس پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا ملاقات میں دفاعی امور میں تعاون سے متعلق بات کی گی ہے۔

جس پر چیرمین سینیٹ نے کہا ’جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا وہ صرف دفاعی امور کے ہی متعلق نہیں تھا بلکہ اس میں باہمی مذاکرات کے آغاز اور دیگر ایسے معاملات پر بھی بات بھی کی گئی ہے جو وزرات خارجہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ کیا سینیٹ یہ سمجھے کہ وزرات خارجہ نے یہ معاملات وزرات دفاع کو سونپ دیے ہیں؟‘

سرتاج عزیز نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا جنرل راحیل شریف کا دورہِ کابل ان سہ فریقی ملاقاتوں میں طے کیے گئے ایجنڈے کا نتیجہ ہے جو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران پاکستان اور افعانستان کی چین اور امریکہ کے درمیان ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں طے شدہ معاملات وہی ہیں جو دورہ کابل میں زیر بحث آئے۔

اسی بارے میں