مردان میں خودکش حملے کی تحقیقات جاری،’70 مشتبہ افراد گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مردان پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نصب نہیں تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں منگل کو ہونے والے خودکش بم دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے میں آپریشن کر کے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے دفتر کے باہر ہونے والے اس دھماکے میں 26 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے جو نادرا کے دفتر میں داخلے کے منتظر تھے۔

مردان کے سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز حشمت علی زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا کو تجزیے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے ضلع مردان کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے ہیں اور 70 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایس پی حشمت زیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جائے حادثہ سے ملنے والی ایک موٹر سائیکل کے ٹکڑوں کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مردان پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نصب نہیں تھا اور نادرا کے حکام نے بارہا سکیورٹی ایڈوائس جاری کرنے کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے تھے۔

اس سے قبل ڈی آئی جی مردان سعید وزیر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کے بارے میں پہلے سے کوئی خفیہ اطلاعات موجود نہیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 26 تک پہنچ گئی ہے

’مردان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر وہاں تو سکیورٹی بڑھائی گئی تھی تاہم نادرا یا اس جیسے دیگر سرکاری اداروں پر حملوں سے متعلق کسی قسم کی کوئی خاص انٹیلیجنس اطلاع نہیں تھی۔‘

خیال رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار نے قبول کی ہے تاہم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے جاری بیان میں حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں