نادرا دہشتگردوں کے نشانے پر کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مردان میں نادرا کے دفتر پر حملے کے حوالے سے کوئی تنبیہ جاری نہیں ہوئی تھی: پولیس حکام

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں نادرا کے دفتر پر خود کش حملے کی بظاہر کوئی وجہ سامنے نہیں آ سکی ماسوائے اس کے کہ یہ ریاست کا ہی ایک ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد شہریوں کے شناختی کارڈ بنانا ہے۔

پولیس یا دیگر سکیورٹی اداروں اور ان کے اہلکاروں پر حملے کی وجہ یہ سامنے آتی ہے کہ یہ ادارے یا اہلکار شدت پسندوں کے خلاف براہ راست بر سر پیکار ہیں۔

سکولوں پر حملوں کا مقصد نظریاتی حوالے سے یہی بتایا جاتا ہے کہ شدت پسند اس نظام تعلیم کے خلاف ہیں اس لیے سکولوں کی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑایا جاتا ہے۔

مردان میں خودکش حملے کی تحقیقات جاری،’70 مشتبہ افراد گرفتار‘

مردان میں نادرا کے دفتر پر خودکش حملہ، کم سے کم 26 افراد ہلاک

نادرا دفتر پر حملے سے پہلے بھی چند ایک ایسے دھماکے ہوئے ہیں جن کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں جیسے کہ پشاور کے شاہین بازار کا دھماکہ جہاں عام لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں یا پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے بازار میں چند ایک ایسے دھماکے ہوئے جن میں عام لوگ ہی نشانہ بنے۔

مردان میں نادرا کے دفتر پر حملے کے بارے کہا جا سکتا ہے کہ نادرا سے ناراضگی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ نادرا کے دفتر پر حملہ شاید ریاست کے ایک ادارے پر حملہ ہے۔ نادرا وفاقی حکومت کا ایک ایسا ادارہ جس کا ایک بڑا کام لوگوں کے شناختی کارڈ بنانا اور شہریوں کا ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاست کے اہم ادارے شدت پسندوں کا نشانہ رہے ہیں اور ان اداروں میں نادرا، پاسپورٹ آفس اور اس طرح کے اداروں کے دفاتر شامل ہیں: پولیس

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کے اہم ادارے شدت پسندوں کا نشانہ رہے ہیں اور ان اداروں میں نادرا، پاسپورٹ آفس اور اس طرح کے اداروں کے دفاتر شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مردان میں نادرا کے دفتر پر حملے کے حوالے سے کوئی تنبیہ جاری نہیں ہوئی تھی لیکن ان دفاتر کو ایسی ہدایات گاہے بگاہے ضرور جاری کی گئی تھیں کہ اپنے دفاتر کی سکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے جن میں سی سی ٹی وی کیمرے وغیرہ شامل ہیں۔

نادرا کے دفتر پر صرف دو سکیورٹی گارڈ ضرور تعینات تھے لیکن دیگر سکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ نادرا نے کچھ شناختی کارڈ کے ذریعے شاید شدت پسندوں کی شناخت کی ہو اس وجہ سے یہ حملہ ہو سکتا ہے لیکن اب تک اس بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔

نادرا کے دفتر پر حملے کی کوئی بھی وجہ ہو یا حملہ آوروں کی نادرا کے ادارے سے کوئی بھی ناراضگی ہو اس سے ہٹ کر ایک بات واضح ہے کہ اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد عام آدمی اور زیادہ تر غریب لوگ تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے دو مختلف بیانات سامنے آئے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان کے مرکزی ترجمان عمر خراسانی نے اس حملے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ان مختلف بیانات پر تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ یہ شاید ابہام پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔

انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے ایسے بیانات جاری کرنے سے ٹی ٹی پی شاید عوامی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف بیانات کی ایک وجہ شاید ان تنظیموں کا نیا طریقہ کار بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں