اُس وقت پتہ چلا جب طالبان نے شکریے کا خط لکھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شوکت خانم ہسپتال میں کسی کا علاج اس کی دولت، رنگ، نسل یا عصبیت کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی بنیاد صرف اور صرف انسانیت ہوتی ہے: عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ لاہور کا شوکت خانم ہسپتال اس قدر کامیاب رہا ہے کہ اس میں ایک طالبان رہنما کا علاج کیا گیا جنھوں نے بعد میں انھیں شکریے کا خط لکھا۔

عمران خان نے یہ بات پاکستان کے نجی چینل جیو کے اینکر حامد میر سے خصوصی گفتگو میں کی جس میں انھوں نے کہا کہ ’بہت سارے افغان علاج کے لیے آتے ہیں۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے ہسپتال میں ایک طالبان رہنما کا علاج ہوا ہے۔‘

اس انکشاف پر حامد میر نے حیرت زدہ انداز میں پوچھا کہ طالبان رہنما؟ جس کے جواب میں عمران خان نے ہنستے ہوئے جواب دیا: ‘مجھے پتہ چلا کہ ہسپتال میں اُس کا علاج ہوا ہے۔‘

جس پر حامد میر نے دوبارہ تصدیق کی کو لاہور والے شوکت خانم میں تو عمران خان نے جواب دیا: ’جی چار پانچ سال پہلے کی بات ہے۔‘ حامد میر نے مزید پوچھا ’افغانستان کا؟‘ تو عمران خان نے جواب دیا ’جی۔‘

عمران خان نے اس بات کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ شوکت خانم ہسپتال میں کسی کا علاج اس کی دولت، رنگ، نسل یا عصبیت کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی بنیاد صرف اور صرف انسانیت ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آصفہ نے نیشنل ایکشن پلان کو طنزیہ انداز میں ’نون لیگ ایکشن پلان‘ لکھا

عمران خان کے اس بیان پر دن بھر وقفے وقفے سے دبے لفظوں سوشل میڈیا پر بات جاری رہی جس میں تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت اس صورت حال کا موازنہ پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم کے کیس سے کرتے رہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے صحافی عمر قریشی کی ٹویٹ کہ ’ڈاکٹر عاصم حسین یقیناً اس موقعے پر کہہ رہے ہوں گے کہ ’تو میرا کیا گناہ ہے۔‘

آصفہ نے اس پر نیشنل ایکشن پلان کو طنزیہ انداز میں ’نون لیگ ایکشن پلان‘ لکھا۔

پیپلز پارٹی ہی کی ایک اور رہنما نفیسہ شاہ نے حیدر زمان قریشی کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے حامد میر کو لکھا کہ ’عمران خان نے آپ کے پروگرام میں تسلیم کیا کہ ایک طالبان رہنما اُن کے ہسپتال میں داخل ہوا اور اس کا علاج کیا گیا۔ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے عمران خان کے ساتھ ڈاکٹر عاصم کی طرح دہشت گردوں کے سہولت کار کے طور پر سلوک کریں گے؟‘

پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے لکھا کہ ’عمران خان نے اپنے بیان میں تسلیم کیا ہے کہ افغان طالبان کو اُن کے ہسپتال میں علاج کیا گیا تو کیا اُن کے ہسپتال کے ساتھ بھی ڈاکٹر عاصم جیسا سلوک ہو گا؟‘

اسی ضمن میں اٹھائے جانے والے سوالوں میں یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کہ کیا یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی دہشت گرد کا علاج کسی ہسپتال میں ہوا ہے اور دوسرا دہشت گرد کون ہے؟

اس کے علاوہ یہ کہ ایک اچھا دہشت گرد جب برا دہشت گرد بن جائے تو اسے کس کھاتے میں ڈالا جائے گا؟

اسی بارے میں