سال 2015: بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے 43 اہلکار ہلاک ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف سی کی جوابی کارروائیوں میں عسکریت اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 253 شدت پسند ہلاک ہوئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سال 2015 کے دوران مسلح شدت پسندوں نے فرنٹیئر کور کے 43 اہلکاروں کو ہلاک جبکہ ایف سی کی جوابی کارروائیوں میں ڈھائی سو سے زائد عسکریت پسند اور شدت پسند مارے گئے۔

بدھ کو کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق سنہ 2015 کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فرنٹیئر کور پر مسلح افراد نے 941 حملے کیے ہیں۔

لورالائی میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ، سات اہلکار ہلاک

’بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارتی اور افغان خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے‘

بیان کے مطابق ان حملوں میں ایف سی کے 43 اہلکار ہلاک ہوئے اور 112زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف سی کی جوابی کارروائیوں میں عسکریت اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 253 شدت پسند ہلاک ہوئے اور 52 زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سرچ آپریشن کے دوران غیر قانونی اسلحہ اورگولہ بارودکی بھاری مقدار قبضے میں لے لی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں مختلف اقسام کے1840 چھوٹے بڑے ہتھیار ،ایک لاکھ سے زائد مختلف ساخت کاایمو نیشن اور 14 ہزار کلو گرام سے زائد مقدار میں بارودی مواد شامل ہے۔

ایف سی ترجمان کے مطابق رواں سال پاک افغان بارڈر پر 453 کلو میٹر پر مشتمل طویل خندق کی مرمت کی مہم بھی جاری ہے۔

ترجمان کا دعویٰ ہے کہ فرنٹئیرکو رکے اصلاحی اور ترقیاتی اقدامات سے متاثر ہو کر 625 فراری قومی دھارے میں شامل ہوئے ہیں۔

ایف سی کے بیان کے مطابق انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں کے دوران غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے والے 7786 افرادکو گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں