’علیحدگی پسندوں سے بات چیت کا آغاز سب بڑی کامیابی ہے‘

Image caption ناراض بلوچ سرداروں سے بات چیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی یک طرفہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں سب شامل تھے

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی وزارتِ اعلی کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کے ناراض بلوچ قوم پرستوں سے کوئی رابطے نہیں ہوئے ہیں لیکن انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئے وزیر اعلیٰ اس عمل کو جاری رکھیں گے۔

ثنا اللہ زہری نے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بلوچ علیحدگی پسندوں سے شروع ہونے والی بات چیت یا مصالحتی عمل کو انھوں نے اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ وہ نئے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری سے اس سلسلے میں مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مصالحت کے عمل کے ساتھ صوبے میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری بھی ان کی حکومت کا ایک نمایاں کارنامہ ہے۔ ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے دوران کیے جانے والے اقدامات کی ہی بنا پر ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جہاں بات چیت کی فضا بنی اور یہ سلسلہ شروع ہوا۔

ناراض بلوچ سرداروں سے بات چیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا یک طرفہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں سب شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ بات چیت شروع کرنے سے قبل کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی تھی اور اس میں سیاسی اور عسکری قیادت بھی موجود تھی۔

بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور سماجی شعبوں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبے میں اداروں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

تعلیم کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے سابق وزیرِاعلیٰ کا کہنا تھا کہ نئے سکول کھولنے سے زیادہ پہلے سے موجود سکولوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور غائب سٹاف کی موجودگی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسی طرح صحت کے مراکز کی حالت بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مالک کا کہنا تھا کہ معاشی شعبے میں ان کے بہت سے اہداف ادھورے رہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی شدید خواہش ہے کہ ان اہداف کو حاصل کیا جائے۔

صوبائی حکومت کی تبدیلی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک معاہدے کے تحت ہوا ہے جس کی پاسداری کرکے وہ بہت مطمئن ہیں، اگر ان کی جماعت اس معاہدے سے رو گردانی کرتی تو یہ سیاسی طور ان کے لیے اور ان کی جماعت کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث ہوتا۔

اسی بارے میں