’40 سے 50 ہزار افراد کی روزانہ غیر قانونی آمد و رفت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاک افغان سرحد سے روزانہ بغیر ویزے کے نقل وحرکت کرنے والوں کی 40 سے 50 ہزار بتائی گئی ہے

پاکستان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد سے روزانہ کی بنیاد پر 40 سے 50 ہزار افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے تاہم افغانستان کی جانب سے سرحدی دفاع کے لیے فقط 60 چوکیاں ہیں جو ناکافی ہیں۔

ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ

بحالی امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق

بی بی سی سے گفتگو میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر تین چوکیاں ہیں جن میں خیبر، چمن اور انگور اڈہ شامل ہیں، تاہم درجنوں ایسے مقامات ہیں جہاں سے غیر قانونی طور پر دونوں جانب رہنے والوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے حالیہ دورہ افغانستان میں افعان حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں سرحدی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت پر بات کی۔

جنرل (ر) عبدالقیوم کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے اپنی سرحد پر قائم 650 چوکیوں میں باقاعدہ طور پر اہلکار موجود ہوتے ہیں تاہم سرحد کے اس پار افغانستان میں صورت حال مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کی موجودگی کے دور میں بھی ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مارنا ممکن نہیں تھا، ان پر حملہ تبھی کیا جاتا تھا جب وہ سرحد پار کر چکے ہوتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس صورت حال میں پاکستان کو دنیا اور افغان حکومت کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاک افغان سرحدی نقل و حرکت کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے تو چیئرمین جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ یہ سرحد ناہموار اور دشوار گزار ہے یہاں باڑ لگانا بھی آسان نہیں۔

جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی سرحد کے ساتھ موجود افغان صوبوں کنڑ، نورستان، پکتیکا اور ننگرہار کے سرحدی علاقوں میں افعان حکومت کی رٹ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان سرحد کی فضائی نگرانی تو کرتا ہے تاہم اس کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کا کھوج لگا سکے۔

’ایریئل سرویلینس تو ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس لوگوں کے پیچھا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘

پاک افغان سرحدی امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان نے سرحدی امور سے متعلق شکایات اور تعاون کے لیے ہاٹ لائن قائم کیا جانا ایک اچھا اقدام ہے تاہم ان کی رائے میں پاکستان، افغانستان اور نیٹو حکام پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کو دوبارہ سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور سکول پر ہونے والے حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے

وہ بتاتے ہیں کہ دسمبر 2014 میں ختم ہو جانے والے اس کمیشن کو دوبارہ بحال کیا جانا چاہیے اس میں صرف پاکستان اور افغانستان کے حکام ہی موجود ہوں تاہم یہ ضروری ہے کہ حکام اس کی مدد سے دو سے تین ماہ میں سلامتی امور کا جائزہ لیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا خیال ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد پر بہت سی جگہیں ایسی ہیں جن کی دوبارہ سے حد بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت بار سرحد پر اسی مسئلے کی بنا پر جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

’حکام کو چاہیے کہ وہ باضابطہ ملاقات کریں، کسی کے پاس روس کا نقشہ ہے تو کسی کے پاس برطانیہ کا نقشہ، یہ سب اتنا آسان نہیں ہے لیکن کیا جا سکتا ہے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر چند کلومیٹر حصے میں باڑ لگائی گئی تھی تاہم افغان حکام باڑ لگانے اور سرنگیں بچھانے کے اقدام کے مخالف ہیں۔

اسی بارے میں