’بابر غوری کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے‘

Image caption صولت مرزا کو گذشتہ سال 12 مئی کو مچھ جیل میں پھانسی دی گئی تھی

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن صولت مرزا کے ویڈیو بیان میں انکشافات کی روشنی میں بنائی گئی جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کو سابق وفاقی وزیر بابر غوری کے شاہد حامد قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں مل سکے۔

صولت مرزا کو گذشتہ سال 12 مئی کو مچھ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

صولت مرزا کو مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی

’کراچی میں قیام امن کے لیے خطرہ مول لیا ہے‘

صولت مرزا کی پھانسی رکوانے کے لیے اہلیہ کی درخواست

خیال رہے کہ صولت مرزا نے ایک ویڈیو بیان میں ایم کیو ایم کی قیادت پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کی مزید چھان بین کے لیے ڈی آئی جی امیر شیخ کی سربراہی میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم بنائی گئی تھی۔

جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صولت مرزا نے میجسٹریٹ کے روبرو اور جے آئی ٹی اول کے سامنے بابر غوری کا نام نہیں لیا تھا۔ انھوں نے ایسا کیوں کیا تھا اس کا وہ کوئی واضح جواب نہیں مل سکا۔

واضح رہے کہ صولت مرزا نے الزام عائد کیا تھا کہ’ کے ای ایس سی‘ کے ایم ڈی شاہد حامد پر حملے کے لیے ہتھیار سابق وفاقی وزیر بابر غوری نے فراہم کیے تھے۔

جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ اس الزام کی تحقیقات کے لیے مزید گواہوں، ثبوتوں اور خاص طور پر ان ملزمان کی بیانات کی ضرورت ہے جنھیں اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہو۔

ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت اور جنوبی افریقہ میں موجود ٹارگٹ کلرز کے نیٹ ورک کے بارے میں انکشاف کی روشنی میں انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذ کرنے کو مزید نگرانی اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کراچی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اسماعیل میمن کے قتل کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ صولت مرزا نے اس قتل کا اعتراف کیا تھا۔

جے آئی ٹی کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا تھا کہ خالد مقبول صدیقی، مسعود صدیقی، سہیل ڈی سی، کامران عرف کامی اور واسع جلیل کے ساتھ بیٹھے تھے، جہاں واسع جلیل نے سہیل ڈی سی اور کامران عرف کامی کو کراچی میٹرک بورڈ کے چیئرمین اسماعیل میمن کو قتل کرنے کے احکامات دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صولت مرزا نے ایک ویڈیو بیان میں ایم کیو ایم کی قیادت پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے صولت مرزا کے انکشافات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں موجود جماعت کے اراکین نہ صرف پولیس اور تحقیقات بلکہ عدل اور انصاف کے نظام پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں، اور یہ کہ اس مداخلت سے بچنے کے لیے ان اداروں کی خود مختاری اور تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔

جے آئی ٹی کے مطابق صولت مرزا نے اِس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے کئی ممتاز رہنما ان سے ملنے جیل آتے تھے اور کراچی کی سینٹرل جیل میں اسیری کے دوران جیل حکام کی ملی بھگت سے ان کو سہولتیں فراہم کی گئی۔

’مجھے دورانِ اسیری ایم کیو ایم کے وزرا کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں میں منتقلیوں اور پوسٹنگ کے کام کو منظم کرنے کے بدلے میں انٹرنیٹ کے ساتھ لیپ ٹاپ اور موبائل فون فراہم کیا گیا تھا۔‘

جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ جیل کی زندگی کے بارے میں ان کے انکشافات قابل تشویش ہیں۔

جے آئی ٹی نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن تشکیل دیا جائے جو جیل میں اصلاحات تجویز کرے۔

جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے گواہوں کے تحفظ کے پروگرام پر موثر عمل درآمد کی سفارش کی ہے تاکہ گواہوں اور جرائم کا اعتراف کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

جے آئی ٹی نے یہ سفارش صولت مرزا کے اس انکشاف کی روشنی میں کی ہے جس میں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے جو ٹارگٹ کلرز گرفتار ہوتے اور اُن سے جیل میں ملتے تو وہ اکثر کہتے تھے کہ وہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن پارٹی کی دہشت کی وجہ سے وہ پارٹی چھوڑ نہیں سکتے۔ اُن کو ڈر تھا کہ اگر انھوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تو اُن کو اور اُن کے اہل خانہ کو قتل کر دیا جائے گا۔

بی بی سی کے پاس موجود جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق صولت مرزا نے اجمل پہاڑی، عبید کے ٹو، سہیل کمانڈو اور سونی کے نام لیے تھے۔

جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ صولت مرزا نے جن ٹارگٹ کلرز کی نشاندہی کی تھی ان کی ذاتی فائلوں، پچھلے جرائم کی تفصیلات اور تفتیش کی روشنی میں مزید تحقیقات کی جائے۔

جی آئی ٹی کے مطابق صولت مرزا یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن صرف اِس لیے بنائی گئی تھی کہ اگر ایم کیو ایم پر پابندی لگ جاتی ہے تو متبادل پلیٹ فارم موجود ہونا چاہیے۔ انھوں نے منتخب اراکین کی گاڑیوں میں اسلحے کی منتقلی کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

جب مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے صولت مرزا سے پوچھا کہ انھوں نے اس مرحلے پر ویڈیو بیان کے ذریعے اِن تفصیلات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا تو انھوں نے وضاحت کی کہ اُن کی تنظیم نے ہمیشہ اُن کی حمایت کی حتیٰ کہ تب بھی جب وہ جیل میں قید تھے۔

’تاہم ایک وقت آیا جب میری تنظیم کو لگا کہ میں اُن کے لیے مزید کارآمد نہیں رہا تو انھوں نے مجھے نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ جب میرے خاندان کے افراد ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر تنظیم کی قیادت سے ملاقات کے لیے گئے تو اُن سے بدسلوکی کی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس رویے کی وجہ سے انھیں یہ احساس ہوا کہ تنظیم نے انھیں ایک ’ٹشو پیپر‘ کی طرح سے استعمال کیا۔

اسی بارے میں