دہشتگرد ہر بار امن کی کوششیں تباہ کرتے ہیں: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں وزارئے اعظم نے دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ٹیلیفونک بات چیت میں انھیں پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے ترجمان کے مطابق منگل کو ہونے والی بات چیت میں نواز شریف نے حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد امن عمل کو پٹڑی سے اتارنا چاہتے ہیں۔

’دہشت گردی کرنے والا پاکستان بھارت کا مشترکہ دشمن‘: آڈیو انٹرویو

کشمیر جہاد کونسل نے پٹھان کوٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پٹھان کوٹ: سوالات زیادہ اور جوابات کم

وزیر اعظم نواز شریف نے اس واقعے پر بھارتی حکومت کی جانب سے ظاہر کی جانے والی بالغ نظری کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بھارت کی جانب سے اس حملے سے متعلق جو بھی معلومات فراہم کی جائیں گی ان پر تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔

ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان امن کے لیے سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے دہشتگرد امن کے عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار اور تعاون پر مبنی تعلقات ہی دہشتگردوں کے مذموم عزائم کا بھرپور جواب ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پٹھان کوٹ پر حملے اور اس کے بعد سرچ آپریشن کے دوران چھ حملہ آور اور سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ان تنظیموں اور افراد کے خلاف ٹھوس اور فوری کارروائی کرے جو پٹھان کوٹ میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں یا ان کا تعلق حملے کے ذمہ داران سے ہے۔

خیال رہے کہ پٹھان کوٹ میں حملے کی ذمہ داری کشمیری عسکریت پسند گروہوں کے اتحاد یونائیٹڈ جہاد کونسل نے قبول کی ہے جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں برسرِ پیکار ہے۔

پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کو مخصوص اور قابلِ عمل معلومات فراہم کی جا چکی ہیں۔

اس سے قبل پیر کو پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی کہا تھا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور حملے کے تناظر میں بھارتی حکومت سے ملنے والی معلومات پر کام کیا جا رہا ہے۔

پٹھان کوٹ پر شدت پسند حملہ سنیچر کی صبح شروع ہوا تھا اور بھارتی فوج اب بھی دو ہزار ایکڑ پر پھیلے وسیع احاطے میں تلاشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس حملے اور اس کے بعد سرچ آپریشن کے دوران چھ حملہ آور اور سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

’دہشت گردی کرنے والا پاکستان بھارت کا مشترکہ دشمن‘

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کے واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین کے میزبان شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک آمادہ ہیں کہ وہ کسی کے ہاتھوں امن کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ایسے لوگوں کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا جو دونوں ممالک کے درمیان امن کی بات چیت شروع ہونے پر اس کو ڈی ریل یا خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ’ یہ ہی اچھی بات ہے کہ ہم وہ نہیں ہونے دینے جا رہے جو دہشت گرد چاہتے ہیں، دہشت گردوں کی منشا کو پورا نہیں ہونے دیا جا رہا اور دونوں ممالک کی حکومتیں اپنے عزم پر قائم ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کریں گی اور جو دہشت گردی کرے گا وہ دونوں کا مشترکہ دشمن ہے۔‘

اسی بارے میں