’دولتِ اسلامیہ پاکستان میں قدم جمانے کے لیے کوشاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قبائلی علاقوں میں موجود پناہ گزین کیمپوں میں مقیم لوگوں کو 30 سے 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کرنے کے بعد ان لوگوں کو افغاتستان بھیجا جاتا ہے: دستاویز

بی بی سی کو پنجاب کے محکمہ داخلہ کی ایک دستاویز موصول ہوئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے بعد اب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پاکستان میں بھی قدم جمانے کے لیے کوشاں ہے۔

تاہم پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس پر مبنی اس طرح کے مراسلے اکثر جاری ہوتے رہتے ہیں جنھیں نہ تو مسترد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی انھیں سو فیصد درست تصور کیا جا سکتا ہے۔

’پاکستان سے 100 افراد عراق، شام جا چکے ہیں‘

’دولتِ اسلامیہ‘ کی ریڈیو نشریات پاکستانی علاقوں میں

محکمۂ داخلہ کا یہ مراسلہ چیف سیکریٹری پنجاب، پولیس کے اعلیٰ حکام اور وزیراعلیٰ کے سیکریٹری کو بھجوایا جا چکا ہے۔ جس کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے پاکستان میں بھرتیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں موجود پناہ گزین کیمپوں میں مقیم لوگوں کو 30 سے 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کرنے کے بعد ان لوگوں کو افغانستان بھیجا جاتا ہے۔

جہاں انھیں برین واش کرنے کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

بھرتی ہونے والے افراد کی تربیت کے لیے دولتِ اسلامیہ نے پروپیگنڈہ پر مبنی لٹریچر اور ویڈیو سی ڈیز بھی جاری کی ہیں تاکہ پاکستان سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل کیا جا سکے۔

مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ اب تک دولتِ اسلامیہ پاکستان میں ایسی 53 سی ڈیز جاری کر چکی ہے جو عربی زبان میں ہیں۔

ان میں پیرس میں ہونے والے حملوں کی فوٹیج دیکھی جا سکتی ہے جس میں یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے حملے مسیحیوں کے خلاف صلیبی جنگوں کا آغاز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان پناہ گزین کیمپ شمشتو سے 40 سے 50 نوجوان افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

ان ویڈیوز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر جنگجو مارا جائے تو ان کے خاندانوں کی کفالت کی جائے گی۔ ان سی ڈیز میں جنگجوؤں کو حملوں کی تیاریاں کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

مراسلے کے مطابق خیبرپختونخوا میں واقع افغان پناہ گزین کیمپ شمشتو سے 40 سے 50 نوجوان دولتِ اسلامیہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے تین مختلف علاقوں میں گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق متعدد شدت پسند گروپ جیسے اسلامک موومنٹ ازبکستان، ترکستان اسلامک موومنٹ، افغانستان میں موجود ازبک اور چیچن ملیشیا، احرارالہند، جماعت الاحرار اور لشکرِ جھنگوی وغیرہ بھی دولتِ اسلامیہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

اسی طرح اماراتِ اسلامیہ افغان طالبان کے کمانڈر مولانا عبدالرؤف بھی دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو گئے ہیں اور دولتِ اسلامیہ کے تربیتی سرگرمیوں کے لیے مالی مدد بھی کر رہے ہیں۔

Image caption لاہورسے شام جانے والی تین خواتین کا تعلق تبلغی مدرسے الہدی سے رہا ہے لیکن کیا مدرسے کی جانب سے انھیں دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونی کی ترغیب دی گئی اس کا کوئی ثبوت تحقیقاتی اداروں کے پاس موجود نہیں: رانا ثنا اللہ

پنجاب حکومت کے محکمۂ داخلہ سے جاری ہونے والے مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اورکزئی ایجنسی کے حافظ سعید کو پاکستان میں اپنا امیر مقرر کیا ہے اور محمد خراسانی ان کے ترجمان ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے زیادہ تر کمانڈروں نے بھی دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے اور حافظ سعید کے ساتھ الحاق بھی کر لیا ہے۔

تاہم پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنااللہ نے کا کہنا ہے کہ دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کی طرح پاکستان سے چند لوگوں کا انفرادی طور پر دولت اسلامیہ میں شرکت کے لیے عراق اور شام جانے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان میں اس شدت پسند تنظیم نے پنجے گاڑ لیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے بہت چوکس ہیں اور حال ہی میں کی گئی گرفتاریاں اس کا ثبوت ہیں۔

’صوبے میں دولتِ اسلامیہ سے تعلقات کے شبہے میں کی گئی گرفتاریوں کی تعداد جب سکیورٹی ایجنسیاں مناسب سمجھیں گی تو بتا دی جائے گی تاہم یہاں اس تنظیم کا منظم نیٹ ورک موجود نہیں اور نہ ہی قائم ہونے دیا جائے گا۔‘

وزیرقانون پنجاب کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس پر مبنی مراسلوں کا جاری ہونا معمول ہے۔ یہ مکمل طور پر تصدیق شدہ معلومات نہیں ہوتی بلکہ بہت کچھ اندازوں کی بنیاد پر کہا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کا مقصد حکومت کے مختلف محکموں کے مابین معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جائے۔ لیکن یہ سو فیصد حقائق پر مبنی نہیں ہوتے۔‘

بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب سے دس بارہ لوگوں کی شام اور عراق جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم 20 کروڑ کے ملک سے چند لوگوں کے کسی بھی تنظیم میں شامل ہونے کا یہ مطلب نہیں یہاں اس تنظیم کا قبصہ ہوگیا ہے۔

حکومت نے بارہا ماضی میں بھی اس بات کی تردید کی ہے اور اب بھی تردید کر رہے ہیں کہ یہاں دولت اسلامیہ کا نیٹ ورک موجود نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور افغانستان میں بھی سرگرم ہے

وزیرقانون کا کہنا ہے کہ ڈسکہ سے دولتِ اسلامیہ سے متاثر جو گروہ پکڑا گیا ان کا ماضی میں تعلق اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت الدعوہ سے ثابت ہوا جس کے بعد تنظیم کے کچھ لوگوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔

’لاہورسے شام جانے والی تین خواتین کا تعلق تبلیغی مدرسے الہدٰی سے رہا ہے لیکن کیا مدرسے کی جانب سے انھیں دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونی کی ترغیب دی گئی اس کا کوئی ثبوت تحقیقاتی اداروں کے پاس موجود نہیں۔ لیکن ہم اس معاملے کی سخت نگرانی کر رہے ہیں۔اگر سکیورٹی ادارے ان لوگوں تک بھی پہنچے ہیں جو ابھی شام جانے کا سوچ ہی رہے تھے تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان کا لگن کا ثبوت ہے۔‘

اسی بارے میں