کراچی: مختلف واقعات میں پانچ مبینہ شدت پسند ہلاک، پانچ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس نے ملزمان سے ڈہائی سے تین کلو گرام دھماکہ خیز مواد اور چار پستول بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے

کراچی میں مختلف واقعات میں پانچ مبینہ شدت پسند ہلاک جبکہ پانچ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ظاہر کیا ہے۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا تھا کہ سہراب گوٹھ کے علاقے مچھر کالونی میں قبرستان کے قریب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے محاصرہ کیا تھا۔

پولیس اہلکار کے مطابق شدت شدت پسندوں نےمزاحمت کی جس کے نتیجے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ ملزمان میں سے دو کی شناخت نعیم اور حفیظ اللہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر کی لاشیں ایدھی سرد خانے پہنچائی گئی ہیں۔

راؤ انوار کے مطابق ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے اور وہ پولیس اور رینجرز پر حملوں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگز اور بھتہ خوری میں بھی ملوث رہے ہیں۔

پولیس نے ملزمان سے ڈھائی سے تین کلو گرام دھماکہ خیز مواد اور چار پستول بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس مقابلے میں پولیس کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس پولیس اور رینجرز سے مقابلے میں 696 مشتبہ ملزمان ہلاک ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ ان میں سے نصف ہلاکتیں ماورائے عدالت تھیں۔

دوسری جانب شہر کے پوش علاقے ڈیفنس سے پولیس نے 4 مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ڈی آئی جی جنوبی جمیل احمد کے مطابق خفیہ اطلاع پر فیز ون سے حنیف عرف ندیم کالا، اشرف علی عرف بھالو، رحمت شاہ اور زاہد حسین کو گرفتار کیا گیا جو خودکش حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

’ملزمان خود کش جیکٹس، 4 کلوگرام دھماکہ خیز مواد، بال بیئرنگ سمیت بم بنانے کا سامان اور 4 پستول برآمد کیے گئے ہیں۔‘

دریں اثنا انسداد دہشت گردی پولیس نے تحریک طالبان کے مقتول سربراہ بیت اللہ محسود کے ساتھی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایس ایس پی عامر فاروقی کا دعویٰ ہے کہ مہربان ولد بادشاہ دین بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی ہے وہ اس کو پیسے پہنچاتا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم کراچی میں 15 کروڑ کی بینک ڈکیتی میں بھی ملوث رہا ہے۔

اسی بارے میں