اقتصادی راہداری، وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کمیٹی کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر انتظام کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے پاک چین راہداری منصوبے میں صوبے کے تحفظات دور کرنے کو یقینی بنانے کےلیے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعرات کو پشاور میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر انتظام کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام جماعتوں کی مشاورت سے ایک کمیٹی کا قیام عمل لایا گیا، جو آئندہ چند دنوں میں وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کرکے انھیں صوبے کے خدشات سے آگاہ کرے گی۔

کیا اقتصادی راہداری دوسرا کالا باغ ہے؟

’خیبر پختونخوا کے اقتصادی راہداری پر تحفظات برقرار‘

کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک چین دوستی اب ایک اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوگئی ہے اور یہ اجلاس اسے ملک و قوم کے لیے روشن مستقبل سے تعبیر کرتا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بعض حکومتی اقدامات پر تحفظات ہیں جو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام میں انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغربی اقتصادی راہداری کا منصوبہ 28 مئی 2015 کو وزیراعظم کے طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اسی اعلامیہ پر من وعن عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے علاوہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ یہ تجارتی راہداری ہے لہذا اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مغربی روٹ پر صنعتی اور تجارتی زون کہاں کہاں اور کب بنائیں جائیں گے۔

Image caption اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ تجارتی راہداری ہے لہذا اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مغربی روٹ پر صنعتی اور تجارتی زون کہاں اور کب بنائیں جائیں گے

’صنعتوں کے لیےگیس پائپ لائن، ٹرانسمیشن لائن اور فائبر آپٹیکل کیبل، ریلوے لائن اور ایل این جی مہیا کرنے کا موجودہ نقشوں میں کوئی تذکرہ موجود نہیں جس سے یہ تاثر مل رہا کہ یہ محض ایک سڑک ہے اور اس کی حثیت کوریڈور کی نہیں۔‘

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ مغربی روٹ کے ساتھ یہ تمام منصوبے وابستہ ہیں اور اس سلسلے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کیا جائے۔

کانفرنس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ، پیپلزپارٹی کے خانزادہ خان، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین، جماعت اسلامی کے مشتاق احمد اور مسلم لیگ (ق) گروپ کے رہنما اجمل خان وزیر نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ چند دنوں کے دوران پاک چین رہداری منصوبے پر یہ اپنی نوعیت کی تیسری ایپکس کانفرنس تھی۔

اس سے پہلے سول سوسائٹی کی تنظیم اولسی تحریک اور گورنر ہاؤس میں بھی تمام سیاسی جماعتوں کے اجلاس منعقد ہوئے تھے جس سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بھی خطاب کیا تھا۔

اسی بارے میں