’چار گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے میں 44 سال لگ گئے‘

Image caption ابراہیم ثانی کافی کوششوں کے بعد تین ماہ کا ویزا لے کر والد سے ملنے پاکستان آئے ہیں

جو سفر محض چار گھنٹوں میں کیا جا سکتا تھا اسے مکمل کرنے میں بھارتی کے شمالی علاقے لداخ کے ایک بیٹے کو 44 سال لگ گئے۔

سنہ 1971 کی جنگ نے ابراہیم ثانی کو جب وہ محض چھ سال کے تھے، اپنے والد سے الگ کر دیا تھا۔

گانچھے میں بچھڑے خاندان ملوانے کے انتخابی وعدے

ان کے والد عبدالغفور پاکستانی علاقے گلگت میں مزدوری کے لیے آئے تھے کہ جنگ کی بنائی نئی سرحد کی وجہ سے واپس اپنے گاؤں نہ لوٹ سکے۔

ان باپ بیٹے کی ملاقات چند روز قبل بالآخر سکردو کے ہوائی اڈے پر ہوئی۔

اس موقع پر ہوائی اڈے پر موجود گلگت کے صحافی موسی چکنگالہ نے بتایا کہ ’چالیس پچاس لوگ ابراہیم کو لینے آئے تھے جبکہ ایئرپورٹ پر موجود دیگر مسافر بھی اس ملاقات کو دیکھ کر رو پڑے۔ ہر کسی کی آنکھ پرنم تھی۔‘

بی بی سی اردو سے ٹیلیفون پر گلگت کے ضلع گانچھے سے بات کرتے ہوئے ابراہیم ثانی نے کہا کہ خواہش تو ملنے کی ان کی طویل عرصے سے تھی لیکن کوششوں کی باوجود ایسا نہ ہوسکا۔ ’میں، میری بڑی بہن اور ماں سرحد پار رہ گئے جب جنگ میں بھارت نے ہمارے علاقے کو اپنا حصہ بنا لیا جبکہ والد یہاں رہ گئے۔‘

80 سال سے زیادہ عمر کے عبدالغفور نے بیوی کی موت کے بعد یہاں دوسری شادی کر لی اور دوکانداری کر کے گزارا کیا۔ وہ ریڈیو سٹیشن میں بھی مترجم کا کام کرتے رہے ہیں۔

بیٹے سے ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ ایک جسم کے دو ٹکڑے آپس میں دوبارہ مل گئے۔ خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔‘

ابراہیم ثانی کافی کوششوں کے بعد تین ماہ کا ویزا لے کر پاکستان آئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی مرتبہ والد نے بھی بھارتی ویزے کی کوشش کی لیکن جموں و کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا لہذا وہ نہیں جاسکے۔

’میری بہن بھی وہاں اسی طرح تڑپ رہی ہے مگر ملنے کے لیے لیکن کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔‘

تقسیم ہند کے موقع پر اور اس کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں نے بڑی تعداد میں اس خطے کے لوگوں کو تقسیم کیا ہے اور ان کی زندگیاں ہی تبدیل کر دی ہیں۔

Image caption باپ بیٹے کی ملاقات چند روز قبل بالآخر سکردو کے ہوائی اڈے پر ہوئی

ابراہیم ثانی کو بچھڑتے وقت کے والد یاد نہیں لیکن بعد میں خط وکتابت کے ذریعے انھوں نے ان کی تصاویر دیکھیں۔

وہ کہتے ہیں ’بس اتنا معلوم تھا کہ ہیں لیکن ہونے کے باوجود اپنے آپ کو جدا محسوس کرتے تھے۔‘

عبدالغفور بھی ماضی کی تلخ یادوں کو کرید کر بتاتے ہیں کہ اس وقت وہ روزگار کے سلسلے میں سکردو آئے تھے لیکن پھر سنا کہ جنگ ہوگئی ہے۔

’ایک دو گاؤں پر انڈیا نے قبضہ کر لیا تو میں یہاں مجبوراً پھنس گیا۔ سنہ دو ہزار میں جب اس خطے میں ٹیلیفون آیا تو اس پر بات ہونے لگی لیکن ملاقات پھر بھی نہ ہو سکی۔‘

اس سوال پر کہ کیا وہ دونوں ملکوں سے کوئی اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ ان جیسے بٹے ہوئے خاندان یکجا ہو سکیں، تو عبدالغفور اپنی نحیف آواز میں بولے کہ ’درخواستوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان دونوں ملکوں نے کہا تھا کہ وہ ملانے کی کوشش کریں گے راستے کھولیں گے لیکن ہوا کچھ نہیں، کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ یہ ہوگیا تو بہت خوشی ہوگی اللہ کا شکر ادا کریں گے۔‘

بیٹے کی واپسی کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ظلم ہے لیکن کیا کریں؟ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ اب دوبارہ جدائی کے انتظار میں ہیں کہ ویزے کے ختم ہونے پر واپسی پر کیا منظر ہوگا۔

’مجھے پھر ایک مرتبہ اس جدائی کے منظر کو دیکھنا ہے۔ پھر مجھے محسوس کرنا ہوگا کہ جدائی کیا ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں