قبائلی علاقے شکتوئی میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شکتوئی میں مقامی قبائل کی طرف سے خود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانیوں کے بعد یہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک قبائلی ملک سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ ایجنسی کے دور افتادہ علاقے شکتوئی میں دو دن پہلے پیش آیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ولی خان نامی ایک قبائلی ملک علاقے میں امن سے متعلق ایک جرگہ میں شرکت کر کے واپس پیدل گھر کی جانب جا رہے تھے کہ مسلح افراد کی طرف ان پر فائرنگ کی گئی جس سے ملک سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ ایک دن قبل پیش آیا تھا تاہم دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہونے اور ٹیلی فون کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے معلومات اکثر اوقات دیر سے پہنچتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک ولی خان نے شمالی وزیرستان کے علاقے گڑیوم میں ایک جرگہ میں شرکت کی تھی جس میں سرکاری اہلکار بھی شریک تھے۔

تاہم اس حملے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی تنظیم کی جانب سے ابھی تک اس کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس علاقے میں کچھ عرصہ پہلے شدت پسندوں کی طرف سے امن کے لیے کوششیں کرنے والے افراد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ شکتوئی ایجنسی کا ایک نوگو ایریا سمجھا جاتا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں سنہ 2009 میں فوج کی طرف سے آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا تاہم شکتوئی میں مقامی قبائل کی طرف سے خود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانیوں کے بعد یہاں کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

اسی بارے میں