شوق اور مجبوری دونوں کا حل’ویمن آن ویلز‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

لاہور کے مصروف کینال روڈ پر گاڑیوں کے درمیان تیزی سے موٹرسائیکل چلاتی نادیہ نسیم کو دیکھ کر کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ انھوں نے حال ہی میں موٹر سائیکل چلانا شروع کی ہے۔

نادیہ مقامی یونیورسٹی میں بی ایس آنرز کی طالبہ ہیں۔ وہ ہوسٹل میں رہتی ہیں اور انھیں اپنے روزمرہ کے کام کاج خود ہی کرنا ہوتے ہیں۔

جب سے نادیہ نے موٹر سائیکل چلانی سیکھی ہے ان کی زندگی آسان ہوگئی ہے۔

’مجھے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بہت لطف آتا ہے۔ دل چاہتا ہے اور تیز چلاؤں اور تیز چلاؤں۔ جب میں ہوسٹل سے واپس گھر سانگلہ ہل جاتی ہوں تو بس میں بیٹھنا بہت برا لگتا ہے اور میں اپنی موٹر سائیکل کو بہت مس کرتی ہوں۔‘

نادیہ کی طرح اس وقت درجنوں خواتین لاہور کے رائیونڈ ڈرائیونگ سکول میں پنجاب حکومت کے پروگرام ’ویمن آن ویلز‘ کے تحت موٹر سائیکل چلانا سیکھ رہی ہیں۔

نومبر میں شروع کیے گئے اس پروگرام میں چند ہی روز میں سینکڑوں خواتین نے دلچسپی ظاہر کی تاہم منصوبے کے نگران سلمان صوفی کہتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں لاہور کی 150 خواتین کو یہ تربیت دی جا رہی ہے۔

Image caption درجنوں خواتین لاہور کے رائیونڈ ڈرائیونگ سکول میں تربیت حاصل کر رہی ہیں

’نومبر میں جب پنجاب حکومت نے اس منصوبے کو شروع کرنے کی ٹھانی تو ہم نے اپنے فیس بک پیج پر یہ پوسٹ لگائی کہ وہ خواتین جو موٹر سائیکل چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں وہ ہم سے تربیت کے لیے رابطہ کریں۔ چند ہی روز میں چھ سو خواتین نےہم سے رابطہ کیا۔‘

اس پروگرام کا مقصد خواتین کے لیے آمدورفت کو آسان بنانا ہے تاکہ وہ تعلیم ہو یا ملازمت آسانی سے جاری رکھ سکیں اور اقتصادی خودمختاری کی منزل پا سکیں۔

فریدہ خانم سکول ٹیچر ہیں۔وہ اس وقت لاہور کے ڈرائیونگ سکول میں موٹر سائیکل چلانے کی تربیت لے رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا ’ہمارے ساتھ بسوں میں مرد مسافر اور کنڈیکٹر جو سلوک کرتے ہیں وہ خواتین کیسے برداشت کرتی ہیں اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ اگر ہماری اپنی سواری ہوگی تو ہم بروقت اور بے فکر ہوکر اپنی منزل پر پہنچ سکتی ہیں۔‘

مسئلہ تو بپلک ٹرانسپورٹ میں خواتین سے ہونے والے سلوک کا ہے۔ اول تو ٹرانسپورٹ ملتی مشکل سے ہے اور اگر جگہ مل جائے تو پھر جو اذیت بس میں موجود مرد حضرات کے رویے سے اٹھانا پڑتی ہے اس کے باعث ہزاروں خواتین اپنی آمدورفت کو ہی محدود کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ اور گاڑی خریدنا سب کے بس کی بات نہیں۔

ایسی صورتحال میں حکومتی سرپرستی میں ’ویمن آن ویلز‘ جیسے پروگرام کے آغاز سے خواتین بہت مطمئن ہیں۔ موٹر سائیکل کی تربیت لینے والوں میں گھریلو ملازمہ سے لے کر طالبات ڈاکٹرز اور اساتذہ سب ہی شامل ہیں۔

مہروز عزیز ہاؤس وائف ہیں۔ ان کے پانچ بچے ہیں۔ مہروز نے بتایا ’میں مستقبل میں خواتین کو موٹرسائیکل اور گاڑی چلانے کی تربیت کے لیے اکیڈمی کھولنا چاہتی ہوں اسی لیے اس پروگرام میں رجسٹریشن کروائی ہے۔ ایک مرتبہ یہ سیکھ لیا تو شوہروں اور بھائیوں کی محتاجی سے جان چھوٹ جائے گی۔‘

Image caption جب سے نادیہ نے موٹر سائیکل چلانی سیکھی ہے ان کی زندگی آسان ہوگئی ہے

تربیت لینے والی خواتین میں کچھ ایسی بھی ہیں جو محض شوق کے لیے موٹر سائیکل چلانا چاہتی ہیں۔

اس پروگرام کا مقصد تو سفر کے دوران خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کمی لانا ہے تاہم ابتدائی طور پر موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کو سڑکوں پر ہراساں کیے جانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

صبا میڈیکل کی طالبہ ہیں وہ کہتی ہیں: ’جب ہم موٹرسائیکل لے کر سڑکوں پر نکلیں گے تو لوگ ہمیں گھوریں گے بھی، آوازیں بھی کسیں گے اور تعاقب بھی ہوگا۔ لیکن روز روز کی مشکل سے جان چھڑوانے کے لیے خواتین کو یہ قدم تو اٹھانا ہی پڑے گا۔‘

اس منصوبے کے نگران سلمان صوفی کہتے ہیں ’پنجاب آئی ٹی بورڈ کے تعاون سے ہم نے ایک فون ایپ بنائی ہے۔ خواتین کو کسی بھی مشکل کی صورت میں کال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ ایپ کو پریس کریں گی تو قریبی ٹریفک وارڈن کو اطلاع مل جائے گی کہ پاس میں ہی کسی خاتون کو تنگ کیا جارہا ہے۔ اور پھر وہ ان کی مدد کریں گے۔‘

ٹریفک پولیس نے بھی ’ویمن آن ویلز‘ کے لیے بہت تعاون کیا ہے اور پہلے مرحلے میں 150 خواتین کو بلامعاوضہ موٹرسائیکل چلانے کی تربیت دی ہے جبکہ موٹر سائیکل بنانے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے تربیت کے لیے مفت موٹر سائیکل فراہم کیے ہیں۔

دس جنوری کو لاہور میں تربیت مکمل کرنے والی خواتین کی ریلی کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں فیصل آباد سرگودھا اور ملتان میں ویمن آن ویلز پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔