اس تلور نے کہیں کا نہ رکھا

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption گذشتہ ہفتے ہب چوکی کے قریب رینجرز نے ایک بس پر چھاپہ مار کر چار تلور برآمد کیے

سردیاں آئیں اور پاکستان میں تلور کے شکار کی قانونی حیثیت پر بحث نہ چھڑے کیسے ممکن ہے ؟

سالِ گذشتہ اس اعتبار سے تاریخی تھا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 19 اگست کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فیصلہ سنایا کہ تلور کے شکار کے پرمٹ بھلے وفاقی حکومت جاری کرے کہ صوبائی حکومت یہ کام غیر قانونی ہے اور آئندہ ایسا کرنے والوں سے عدالت نمٹے گی۔

تلور کی غلام خارجہ پالیسی

نایاب پرندے تلور کے شکار پر مکمل پابندی کا فیصلہ برقرار

وفاق کی جانب سے ایک ریویو پیٹیشن میں خاصا رویا گایا گیا کہ تلور خلیجی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنے کی سرکاری پالیسی کا اہم ستون ہے لہذا خصوصی اجازت ناموں کے اجرا کی پالیسی کو ختم نہ کیا جائے مگر عدالت کا دل نہ پسیجا۔

اور دل نہ پسیجنے کی معقول وجوہات بھی تھیں۔پہلی یہ کہ پاکستان جنگلی حیاتیات کی بقا کے بین الاقوامی کنونشن (سائٹس) کا دستخطی ہے اور تلور نسل کشی سے دوچار سرخ فہرست میں شامل ہے۔

سائٹس کا اندازہ ہے کہ اب دنیا میں صرف 97 ہزار کے لگ بھگ تلور باقی رہ گئے ہیں اور اگر انھیں نہ بچایا گیا تو چند برس بعد تلور صرف تصویر میں ہی نظر آئےگا۔

پاکستان ان چند ممالک میں ہے جہاں یہ سائبیریائی پرندہ موسمِ سرما گزارتا ہے۔ مگر دور دیس سے پناہ اور غذا کی تلاش میں آنے والے ان مہمانوں کی دیکھ بھال کرنے کے بجائے حکومت انھیں خصوصی پرمٹ کے نام پر خلیج سے آئے شکاریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔

مشکل یہ ہے کہ خلیجی مہمان مقامی حیاتیاتی قوانین کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور خصوصی پرمٹوں پر درج تعداد سے کہیں زیادہ شکار کر جاتے ہیں مگر پوچھے کون ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سائٹس کا اندازہ ہے کہ اگر تلور کو نہ بچایا گیا تو چند برس بعد یہ صرف تصویر میں ہی نظر آئےگا

اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ بلوچستان کے محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں ایک سعودی شہزادے نے چاغی میں تین ہفتے کی کیمپنگ کے دوران 2100 تلور شکار کیے جو کہ پرمٹ کے تحت دی گئی اجازت سے قریباً دس گنا زائد تھے۔

خیبر پختون خواہ پہلی صوبائی حکومت ہے جس نے گذشتہ برس نہ صرف دفترِ خارجہ کے جاری کردہ خصوصی اجازت نامے ماننے سے انکار کردیا بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تلور کے غیرقانونی شکار میں ملوث ایک قطری شہزادے کو روکا بھی اور 80 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

بات صرف شکار کی نہیں۔ باز اور تلور پکڑ کے بڑی تعداد میں خلیجی ممالک میں سمگل بھی کیے جاتے ہیں اور یہ ملی بھگت کروڑوں کا دھندا ہے۔

اپریل 2014 میں ایرانی کوسٹ گارڈز نے بلوچستان کے ساحل سے بحرین جانے والی ایک کشتی پر چھاپہ مار کے 142 باز اور 240 تلور برآمد کر کے ضبط کر لیے۔

گذشتہ ہفتے ہب چوکی کے قریب رینجرز نے ایک بس پر چھاپہ مار کر چار تلور برآمد کیے۔

حیرت کی بات ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں تلور کے تحفظ سے متعلق عدالتی فیصلے کی روح سمجھنے کے بجائے اسے تعلقات و سرمایہ کاری کا غلاف پہنا رہی ہیں۔

خیبر پختون خوا حکومت کے برعکس تینوں صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی۔ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں تو ڈیڑھ ماہ قبل تلور کے شکار پر پابندی کے خلاف عربوں سے وابستہ بااثر مقامی شخصیت چوہدری منیر نے ایک روزہ ہڑتال بھی کروائی۔

پنجاب حکومت نےگذشتہ اکتوبر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپنی ریویو پیٹیشن میں کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت یہ صوبے کا اختیار ہے کہ وہ شکار کا پرمٹ جاری کرے یا نہ کرے۔اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بقا کے خطرے سے دوچار پرندوں کے شکار کا حق قانونی کیسے ہو سکتا ہے ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان ان چند ممالک میں ہے جہاں یہ سائبیریائی پرندہ موسمِ سرما گزارتا ہے

بلوچستان حکومت نے یہ دلیل دی کہ تلور کے شکار سے ملک میں سرمایہ کاری بھی آتی ہے اور ہزاروں افراد کو روزگار ملتا ہے۔اس پر ایک موقر وکیل نے یہ تبصرہ کیا کہ عرب مہمان آج سے نہیں برسوں سے چاغی، تربت، لورالائی، موسیٰ خیل، مشخیل، قلات اور جھل مگسی میں تلور کا شکار کر رہے ہیں۔

ان علاقوں میں خلیجی مہمانوں نے اب تک کتنی سرمایہ کاری کی اور اس سے کتنے لوگوں کو روزگار ملا اور انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولتیں کتنی بہتر ہوئیں؟ کیا اس بارے میں صوبائی حکومت کچھ روشنی ڈالے گی ؟

مگر سب سے دلچسپ موقف حکومتِ سندھ کے وکیل اور سینیٹ کے سابق چیئرمین فاروق ایچ نائک کا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ریویو پیٹیشن کی سماعت کرنے والے بینچ کے روبرو فاروق نائیک نے فرمایا: ’بھارت پاکستان میں تلور کے شکار پر پابندی دیکھنا چاہتا ہے تاکہ غیر ملکی مہمان یہاں سرمایہ کاری نہ کریں اور پاکستان ترقی نہ کرے۔‘ جس پر فاضل بینچ کے چہروں پر مسکراہٹ سی پھیل گئی۔

ایک عزت مآب جج نے انتہائی فاضل وکیل سے پوچھا کہ جب تلور بھی نہ رہیں گے تو پھر آپ مہمانوں کو کیا پیش کریں گے ؟

اسی بارے میں