’اغوا کے بعد ہونٹ سلنے کا واقعہ مشکوک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ’پولیس نے متعدد بار علی عادل کا بیان لینے کی کوشش کی مگر وہ تفصیلی بات کرنے سے گریزاں ہیں‘( فائل فوٹو)

پنجاب کے شہر سانگلہ ہل میں با اثر زمیندار کی جانب سے مبینہ طور پر40 سالہ علی عادل کے ہونٹ سینے کے واقع کی ابتدائی رپورٹ میں اس واقعے کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ہے جنھوں نے علی عادل کے مکمل طبی معائنے کے لیے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بورڈ قائم کیا ہے جس نے مذکورہ شخص کا دوبارہ طبی ٹیسٹ لیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ننکانہ صاحب شہزادہ سلطان نے علی عادل پر ہونے والے تشدد کو مبینہ اور مشکوک قرار دیتے ہوئےانکشاف کیا ہے کہ علی عادل کے خاندان کی جانب سےاس سے پہلے چار مقدمات مختلف لوگوں پر درج کرائےگئے جو بعد میں جھوٹے ہونے کے باعث ختم کرا دیے گئے۔

ڈی پی او ننکانہ کے مطابق علی عادل کی بہن نگینہ بی بی نے 2مقدمات درج کرائے جن میں سے ایک مقدمے میں اس نے 6لاکھ روپے وصول کر کے مقدمہ واپس لیا۔

ان کا کہنا تھاکہ پولیس نے متعدد بار علی عادل کا بیان حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ تفصیلی بات کرنے سے گریزاں ہیں جس سے اس پر تشدد کے واقعے پر شکوک میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈِی پی او ننکانہ صاحب شہزداہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ آئندہ 24گھنٹے میں علی عادل کا تفصیلی بیان لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد اس حوالے سے میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

سانگلہ ہل کے رہائشی علی عادل جمعرات کے روز لاہور میں مال روڈ کے قریب نیلا گنبد چوک میں زخمی حالت میں ملے تھے اور اس کے ہونٹ بھی تانبے کے تار سے سلے ہوئے تھے۔

ڈاکٹروں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ علی عادل کے اہل خانہ کے پہنچنے پر اس کے ہونٹوں کی سلائی کھولی گئی جبکہ اس کے سر اور جسم کے کئی حصوں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

علی عادل کا کہنا ہے کہ سانگلہ ہل کے ایک بااثر زمیندار نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ انھیں 15دسمبر 2015 زبردستی اغوا کیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کے ہونٹ بھی سی دیے۔

اسی بارے میں