لاہور میں بلاول بھٹو کی سیاسی سرگرمیاں اور سلفیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لاہور میں بلاول بھٹو نے وکلا سے بھی خطاب کیا

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی بہن بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ لاہور کے دورے پر ہیں۔

لاہور ان کے لیے یقیناً نیا نہیں ہے لیکن اس بار ایک نیا کام ضرور ہوا ہے کہ بلاول بحریہ ٹاؤن میں وسیع و عریض رہائش گاہ سے باہر نکلے ہیں۔

سنیچر کو وہ اپنی بہنوں کے ساتھ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے ملے۔ اس موقع پر انھوں نے سلمان تاثیر کے بیٹے شہریار تاثیر کے ساتھ سلفیاں بھی بنوائیں جبکہ شہریار کے کتے کو پیار کرتے ہوئے ان کی تصاویر بھی اخبارات کی زینت بنیں۔

بلاول اور ان کی بہنوں نے اتوار کو اجتماعی شادیوں کی تقریب میں بھی شرکت کی جس میں انھوں نے مسلم لیگ نون کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ رنگ برنگی ٹرین و بس سروسز اور سڑکوں کی تعمیر سے غریب عوام کا کوئی بھلا نہیں ہو رہا۔

سندھ اور پنجاب پولیس کے کمانڈوز کے سخت حصار میں گھرے بلاول بھٹو زرداری نے لاہور ہائی کورٹ میں وکلا سے خطاب کیا، لیکن یہاں بھی جیالوں نے سٹیج پر چڑھ کر سلفیاں بنانا شروع کر دیں۔

اس کوشش میں کارکنوں کی دھکم پیل تو ضرور ہوئی لیکن بلاول نہ صرف یہ کہ خندہ پیشانی سے پیش آئے بلکہ سلفیاں بنانے کے لیے خصوصی پوز بھی بنائے۔

بلاول بھٹو زرداری کی روانگی کے وقت لوگوں کی بڑی تعداد ان کی گاڑی کے قریب جمع ہوگئی اور نعرے بازی شروع کر دی، بلاول نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ہاتھ ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان بار کونسل کی جانب کھلنے والے گیٹ کو بلاول بھٹو کے لیے مخصوص کیا گیا تھا جبکہ ہائی کورٹ کے مال روڈ اور ٹرنر روڈ کی جانب کھلنے والے گیٹ سے سخت چیکنگ کے بعد ہی کسی کو اندر جانے کی اجازت تھی۔

باقی تمام دروازے بنداور جیمرز لگا کر کے بلاول بھٹو کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

’کراچی شہدا‘ ہال میں بھی صرف وکلا کو داخلے کی اجازت تھی۔

اسی بارے میں