معمول کا سرچ آپریشن یا صحافت پر حملہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس تلاشی کے دوران رینجرز کے ہمراہ مجسٹریٹ اور لیڈی پولیس بھی تھی: ایس پی

پاکستان میں سوشل میڈیا پر منگل کی صبح اس وقت کہرام برپا ہوا جب نیو یارک ٹائمز کے نمائندے سلمان مسعود نے ٹویٹ کی کہ ان کے مکان کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

اس ٹویٹ کے بعد صحافت پر حملے کے پیغامات سوشل میڈیا پر آنے شروع ہوگئے۔

تاہم بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے ایس پی رورل مصطفیٰ تنویر نے بتایا کہ ’منگل کو ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن اور نیلور فیکٹری کے علاقوں میں ان مکانوں کی تلاشی لی گئی ہے جو کرائے پر ہیں۔‘ اس کے علاوہ اُن کا کہنا تھا کہ اُن مکانوں کی بھی تلاشی لی گئی ہے جن کے بارے میں متعقلہ پولیس سٹیشن کو تازہ معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس تلاشی کے دوران رینجرز کے ہمراہ مجسٹریٹ اور لیڈی پولیس بھی تھی۔‘

ایس پی رورل مصطفیٰ تنویر نے مزید بتایا کہ یہ جنرل تلاشی تھی اور یہ علاقے میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے، سماج دشمن عناصر اور جرائم پیشہ عناصر پر نظر رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک معمول کی کارروائی ہے۔

ایس پی مصطفیٰ تنویر نے مزید کہا کہ اس سرچ آپریشن کے دورن مختلف علاقوں سے 25 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سلمان مسعود نے منگل کی صبح ٹویٹر پر رینجرز اور پولیس ایلیٹ فورس کی تصاویر شائع کی ہیں جو ان کے مطابق ان کے مکان کی تلاشی لے رہے ہیں۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ رینجرز ان کے مکان پہنچے اور کہا کہ مکان کی تلاشی لینی ہے ’لیکن ان کے پاس نہ تو کوئی دستاویز تھا اور نہ ہی وارنٹ‘۔

سلمان مسعود نے رینجرز کی جانب سے تلاشی کی مختلف تصاویر ٹویٹر پر لگائی ہیں۔

ایک اور ٹویٹ میں سلمان مسعود نے لکھا ہے ’ایک شخص سادہ لباس میں تھا اور اس نے کہا کہ وہ انٹیلیجنس سے ہے لیکن اس نے اپنی اس سے زیادہ شناخت نہیں کرائی۔ اور مکان کی تلاشی پر زور دیا۔‘

ایک اور ٹویٹ میں سلمان مسعود نے کہا ہے کہ اعلیٰ پولیس افسر سے جب انھوں نے رابطہ کیا تو افسر نے ان کو بتایا ہے کہ ’دہشت گردوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے‘۔

اسی بارے میں